فرانس ریپ الزام کے بعد لبنانی سفیر کا استثنیٰ ختم کرانے کی کوشش کرے گا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس میں لبنان کے سفیر پر ریپ کا الزام عائد ہونے کے بعد فرانسیسی حکام نے لبنان سے پیرس میں اپنے سفیر کا سفارتی استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک فرانسیسی ذریعے نے بتایا کہ فرانسیسی حکام لبنان سے یہ مطالبہ کریں گے اور اس سمت مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ لبنان کے سفیر پر عصمت دری اور جان بوجھ کر تشدد کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

سفارت خانے کے دو سابق ملازمین کی شکایات کے بعد فرانس میں سفیر رامی عدوان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ اسے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے لیکن اگر لبنان فرانس کی درخواست مان لیتا ہے تو رامی کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لبنان کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ سفیر سے پوچھ گچھ اور سفارت خانے کے عملے کے بیانات سننے کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم پیرس میں سفارت خانے بھیجے گی۔

میڈیاپارٹ نیوز ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ سفارتخانہ کی ایک 31 سالہ سابق ملازمہ نے جون 2022 میں ریپ کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ مئی 2020 میں سفیر نے نجی اپارٹمنٹ میں اسے ہراساں کیا تھا۔ سفیر نے اسے نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

28 سال کی دوسری خاتون نے فروری میں شکایت کی تھی کہ اس کی جانب سے جنسی تعلقات سے منع کرنے کے بعد سفارت کار نے اسے جسمانی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا تھا۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے جمعہ کو اے ایف پی کو واضح کیا تھا حقائق کی سنگینی کے پیش نظر ہم لبنانی حکام کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ پیرس میں لبنانی سفیر کا استثنیٰ ختم کر دیا جائے تاکہ فرانسیسی عدالتی حکام کے کام میں آسانی ہو جائے۔

عدوان کے وکیل کریم بیلونی نے کہا ہے کہ ان کا مؤکل زبانی، اخلاقی اور جنسی کسی بھی شکل میں جارحیت کے تمام الزامات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا عدوان کے الزام عائد کرنے والی دونوں خواتین سے رومانوی تعلقات تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں