امریکی ریاست ورجینیا کے ہائی اسکول کے قریب فائرنگ سے 2 ہلاک، 5 زخمی

فائرنگ میں 24 گھنٹے میں چار یا چار سے زیادہ لوگ مارے جائیں تو ایف بی آئی اسے قتلِ عام کا درجہ دیتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کی ریاست ورجینیا میں ایک ہائی اسکول کی گریجویشن تقریب کے موقع پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔

ورجینیا کے شہر رچمنڈ کے ایک تھِیٹر میں منگل کو گریجویشن تقریب ختم ہی ہوئی تھی کہ اچانک گولیاں چلنے کے بعدافراتفری مچ گئی اور والدین اپنے بچوں کے ساتھ روتے چلاتےہوئے ادھر ادھر بھاگتے رہے۔

من موقع إطلاق النار في فيرجينيا - رويترز
من موقع إطلاق النار في فيرجينيا - رويترز

اسکول بورڈ کے رکن جوناتھن ینگ نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ طلبہ اور ان کے ساتھ آنے والے مہمان تقریب کے اختتام پر عمارت سے باہر نکل رہے تھے کہ اس موقع پر انہوں نے کم از کم 20 گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں۔

پولیس نےموقع سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے ایک 19 سالہ مشتبہ نوجوان کو حراست میں لے لیا جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ نوجوان پر سیکنڈ ڈگری قتل کے دو الزامات عائد کیے جائیں گے۔

رچمنڈ پولیس کے عبوری چیف رک ایڈورڈز نے رات کے وقت ایک نیوز کانفرنس میں دو ہلاکتوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ ورجینیا کے دارالحکومت کے الٹریا تھیٹر کے باہر اور ملحقہ پارک میں فائرنگ سے متعدد افراد خمی ہو ئے۔

پولیس کے مطابق بھگدڑ کی وجہ سے کم از کم 12 دیگر زخمی ہوئےاور ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

ایڈورڈز نے کہا، "جیسے ہی انہوں نے فائرنگ کی آواز سنی، ظاہر ہے کہ افراتفری مچ گئی۔ منرو پارک میں سینکڑوں لوگ تھے، لوگ ہر طرف بھاگے۔ جائے وقوع پرانتہائی افراتفری تھی۔"رچمنڈ پولیس کے عبوری چیف رک ایڈورڈز نےمزید بتایا کہ مرنے والے دونوں مرد تھے، جن کی عمریں 18 اور 36 سال تھیں۔

فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے نام جاری نہیں کیے گئے، تاہم پولیس کا خیال ہے کہ مشتبہ شخص کم از کم ایک مرنے والے کو جانتا تھا۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے متعدد بندوقیں برآمد کی ہیں۔ پولیس نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن رچمنڈ پولیس کے عبوری چیف نے بتایا ہے کہ حراست میں لیے گئے دو افراد میں سے ایک کو واقعے میں ملوث نہیں پایا گیا۔

رچمنڈ کے میئر لیور اسٹونی نےعزم ظاہر کیا ہےشوٹنگ کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے واقعے کو المناک اور تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بچوں کی بات ہے، یہ ان کی گریجویشن کادن تھا۔ ایسا کہیں بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔

لیور اسٹونی کے مطابق "اس وقت میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا اب کسی چیز کا تقدس باقی نہیں رہا؟ کیا اب کوئی چیز مقدس نہیں رہی؟"

فائرنگ کے واقعات میں جن عوامل کا عمل دخل ہے ان میں، ماہرین کے مطابق، آتشیں اسلحہ کا فروغ، اسلحہ کے قوانین کی عدم موجودگی، کرونا وائرس کی وباء کے اثرات، سیاسی فضا میں با معنی انداز میں کسی تبدیلی سے گریز اور امریکی معاشرے میں تشدد کے عنصر میں اضافہ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں