لیبیا کے متحارب دھڑے طویل عرصے سے التوا کا شکار انتخابات کی شرائط پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کے متحارب دھڑوں کے ایلچیوں نے گوناگوں تنازعات سے دوچار ملک میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے لیے قانونی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔

مراکش میں دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد دونوں فریقوں کے نمایندوں نے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے لیکن اب تک کسی فریق نے اس معاہدے پر دست خط کرنے سے گریز کیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ کچھ اختلافات اب بھی حل طلب ہیں۔

ابھی تک انتخابات کے انعقاد کی کسی حتمی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے۔لیبیا کے مشرق میں قائم پارلیمان کے نمایندے جلال الشويهدی نے مراکش کے جنوبی شہر بوزنیقہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے صدارتی اور قانون سازاسمبلی کے انتخابات کے لیے قوانین پر اتفاق کیا ہے۔

طرابلس میں قائم انتظامیہ سے وابستہ ہائی اسٹیٹ کونسل (ایچ ایس سی) کے نمائندے عمرابولیفہ نےکہا کہ ’’اب صرف پارلیمنٹ پر منحصر ہے کہ وہ معاہدے کے متن کی توثیق کرے‘‘۔

تاہم ان مذاکرات کے میزبان مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ نے کہا ہے کہ اس معاہدے پر آیندہ دنوں میں لیبیا کی مشرقی پارلیمان کے اسپیکر عقیلہ صالح اور ایچ ایس سی کے سربراہ خالد المشری دست خط کریں گے۔

لیبیا میں صدارتی اور قانون سازاسمبلی کے انتخابات قانونی بنیاد اور جنرل خلیفہ حفتر اور دوسرے متنازع امیدواروں کی ان میں شرکت سمیت دیگر معاملات پراختلافات کی وجہ سے بار بار تاخیر کا شکار ہوئے ہیں۔

بوزنیقہ میں لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان بات چیت 22 مئی سے جاری تھی اور یہ دونوں فریقوں کی جانب سے کسی معاہدے تک پہنچنے کی تازہ کوشش ہے۔

مارچ کے وسط میں لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی عبدالحیی باثیلی نے دونوں حریف حکومتوں پر زور دیا تھا کہ وہ 'وسط جون' تک انتخابات کی شرائط پر اتفاق کریں۔

لیبیا میں ماضی میں طے شدہ سمجھوتے کے مطابق انتخابات دسمبر 2021 میں منعقد ہونا تھے لیکن متحارب فریقوں میں اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے تھے۔ان میں سب سے اہم اختلافی نکتہ یہ تھا کہ کس کو انتخابات میں حصہ لینا چاہیے اور کس کو نہیں۔

یادرہے کہ لیبیا میں 2011 میں سابق صدر معمر قذافی کا تختہ الٹنے کے بعد سے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑائی جاری ہے اور مختلف ملیشیا گروپ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔انھوں نے غیر ملکی طاقتوں کی حمایت سے ایک دوسرے کے مدمقابل اتحاد تشکیل دے رکھے ہیں۔

جنگ زدہ ملک دارالحکومت طرابلس میں قائم برائے نام عبوری حکومت اور مشرقی لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کی حمایت یافتہ ایک اور متوازی حکومت کے درمیان تقسیم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں