کیا آپ نے کبھی ڈرون ٹوائلٹ کے بارے میں سنا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا کے دور میں بہت سی من گھڑت اور غلط تصاویر اور حقائق پوسٹ کیے جاتے ہیں جو صارفین کی جانب سے تحقیق کیے بغیر آگے پھیلائے دیے جاتے ہیں۔

حال ہی میں سوشل نیٹ ورکس پر ایک ایسی تصویر شیئر کی جارہی ہے جسے ’ڈرون ٹوائلٹ‘ کہا جارہا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایک نئی جاپانی یا چینی اختراع ہے۔ جسے آپ بوقت ضرورت کہیں بھی آرڈر کر کے منگوا سکتے ہیں۔


تاہم، یہ تصویر، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی درجنوں تصاویر کی طرح، حقیقی نہیں ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔

تصویر میں، ہیلی کاپٹر جیسے پروپیلرز سے لیس ، ہوائی جہاز کے کیبن سے مشابہ ایک کیبن کے اندر ایک ٹوائلٹ نظر آتا ہے۔

اس تصویر کو سوشل میڈیا پر ہزاروں تعاملات موصول ہوئے، بہت سے ديگر صارفین نے بھی اسے حقیقی ڈیزائن سمجھتے ہوئے اس تصویر کو شیئر کیا۔

ایک صارف جس نے یہ تصویر پوسٹ کی لکھتا ہے کہ "جاپان نے ایک اڑنے والا بیت الخلا بنایا ہے جسے آپ کہیں بھی آرڈر کر سکتے ہیں۔"

تاہم، "ایجنسی فرانس پریس" کی طرف سے سامنے آنے والی تحقیق کے مطابق یہ تصویر مصنوعی ذہانت کے ایک پروگرام کے ذریعے بنائی گئی تھی۔

فیکٹ چیک کے دوران تلاش ایک ایسے شخص کے پیج پر جا رکتی ہے جو خود کو ایسے ڈیجیٹل آرٹسٹ کے طور پر متعارف کراتا ہے جو مصنوعی ذہانت سے محبت کرتا ہے۔


یہ تصویر سب سے پہلے اس کے انسٹاگرام پیج پر پوسٹ کی گئی تھی جہاں وہ لکھتا ہے کہ "مستقبل کے" بیت الخلا جو درخواست کرنے والوں کے لیے آرام، رازداری اور صفائی فراہم کرتے ہیں۔

تاہم، اس کے ساتھ صراحتا بیان کیا گیا کہ یہ ڈیزائن بنانے کے لیے "مڈ جرنی" پروگرام کا استعمال کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں