اسرائیلی سپیکر کا دورہ مراکش، رباط میں احتجاجی مظاہرے

درجنوں مراکشی باشندوں نے مظاہرہ کیا، تل ابیب کا پرچم نذر آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی کنیسٹ کے سپیکر امیر اوہانہ نے کی مراکش آمد کے موقع پر دارالحکومت رباط میں مراکش میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ صہیونی ریاست کے عہدیدار کے دورہ پر مراکش کے درجنوں باشندے سڑکوں پر نکل آئے۔ نعرہ بازی کی اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش کیے۔

بدھ کی شام مظاہرے میں سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔ لوگوں نے "مزاحمت ہی حل ہے" اور "رباط اور فلسطین کے لوگ ایک ہیں دو نہیں" کے نعرے لگائے اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیا۔

مراکش نے 10 دسمبر 2020 کو امریکی ثالثی میں مغربی صحارا کے علاقے پر رباط کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے بدلے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات شروع کیے تھے۔ مغربی صحارا 1976 سے مراکش اور پولساریو فرنٹ کے درمیان متنازعہ ہے۔

کنیسٹ سپیکر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی حکومت مغربی صحارا کے علاقے پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے ممکنہ اعلان پر بات کر رہی ہے۔

’’تحریک توحید و اصلاح‘‘ سے وابستہ مراکش انیشی ایٹو فار سپورٹ اینڈ ہیلپ کے رکن عزیز الھناوی نے کہا ہے کہ آج یہ مقبول مؤقف عجلت میں سپیکر آف دی کنیسٹ کے بدقسمت دورے کے خلاف منظم کیا گیا۔ یہ تحریک بھی ’’ اعتدال پسند اسلامسٹ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘‘ کا ہی ونگ ہے۔

عزیز الھناوی نے مزید کہا کہ اس موقف کے ذریعے ہم مراکش صحارا کے معاملے سے گزر کر تعلقات کے قیام کو مسترد کرتے ہیں۔ گزشتہ اڑھائی سال میں جو ہوا ہے وہ یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین سے چھلانگ لگا کر تعلقات کو مغربی صحارا کے معاملے پر منتقل کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں