جنسی حملوں کے الزام میں بلائے گئے اسرائیلی سفیر کو واپس مراکش بھیجا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی سفیر ڈیوڈ گوورین جولائی میں مراکش میں رابطہ دفتر میں اپنے عہدے پر واپس آجائیں گے۔ انہیں ایک اسرائیلی سفارت کار کے مطابق "جنسی حملوں اور فنڈز کے غبن" کے الزام میں پوچھ گچھ کے لیے اپنے ملک میں طلب کیا گیا تھا۔

سفیر شائی کوہن جو عارضی طور پر دفتر کے سربراہ کے طور پر ان کی جگہ آئے تھے نے دارالحکومت رباط کے قریب آفس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سفیر گوورین اپنے مشن کو جاری رکھنے کے لیے اگلے ماہ یہاں واپس آ جائیں گے۔ انہوں نے مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے گزشتہ ستمبر میں گوورین کو خواتین کے استحصال اور جنسی طور پر ہراساں کرنے اور نازیبا حرکات کے ارتکاب کے الزام میں طلب کیا تھا۔ گوورین نے اپنے وکیل کے تیار کردہ ایک خط میں ان الزامات کی تردید کی تھی۔ اس کے بعد کوہن کو عارضی طور پر ان کی جگہ رباط میں اسرائیل کے رابطہ دفتر کے سربراہ کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔

یہ دفتر 2021 کے اوائل میں اس وقت کھولا گیا جب دونوں ممالک نے سہ فریقی معاہدے کے فریم ورک کے اندر اپنے سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کیے تھے۔ اس معاہدہ میں "پولیساریو" محاذ کے ساتھ متنازعہ مغربی صحارا پر رباط کی خودمختاری کو امریکہ کا تسلیم کرنا بھی شامل تھا۔

اسرائیل کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کوہن نے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف اقتصادی، سیاحتی اور عسکری سطح پر تعلقات میں گہری ترقی کی تعریف کی۔ اسرائیلی سفارت کار نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ملک جلد آزاد تجارت کے معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں