العربیہ ایکسکلوسیو

سعودی عرب کی جانب سے درخواست کردہ طیاروں کی تعداد 121 ہے: صدر بوئنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ انٹرنیشنل کے سی ای او ڈاکٹر برینڈن نیلسن نے کہا ہے کہ سعودی عرب بوئنگ کے لیے ایک اہم صارف اور پارٹنر ہے۔ اور ہم ہوا بازی کے میدان میں اس کے وژن 2030 کے حصول کی حمایت کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔

ڈاکٹر برینڈن نیلسن نے ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب بنیادی طور 777 اور 787 جیسے بڑے جڑواں ہوائی جہاز جیسے وسیع باڈی والے طیارے خریدنا چاہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ "نئی ریاض ایئر لائنز نے 787 ماڈل کے 72 مختلف طیاروں کی درخواست کی ہے، جبکہ سعودی ائیرلائن نے بھی 39 طیاروں کی درخواست کی تھی۔

10 اضافی طیاروں کے علاوہ، سعودی عرب نئے بوئنگ طیاروں کی کل تعداد کو 121 تک لے جانا چاہتا ہے، جن کی کل مالیت تقریباً 35 بلین ڈالر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سپلائی کے چیلنجوں پر قابو پاتے ہوئے ان طیاروں کی بروقت فراہمی کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اب وہ سعودی ایئر لائنز کو نسبتا چھوٹے 737 طیارے فراہم کرنے کے لیے ایک اور کمپنی سے مقابلہ کر رہے ہیں، جس کے لیے مذاکرات ابھی جاری ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ"سعودی کمپنیوں کی جانب سے بروقت طیاروں کی درخواست پر عمل درآمد اور ترسیل کے معاملات ہمارے لیے بہت اہم ہیں، لیکن ہم معیار کی قیمت پر تیز رفتار پیداوار کے خواہاں نہیں ہیں۔"

مشرق وسطی کے لیے توقعات

ان کا کہنا تھا کہ ’’مشرق وسطیٰ کے لیے اگلے بیس سالوں کے لیے ہماری توقعات یہ ہیں کہ خطے کو 3000 نئے طیاروں کی ضرورت ہوگی۔ اور اگر ہم اس کے بارے میں سوچیں تو مشرق کے کسی بھی بڑے ہوائی اڈے سے 8 گھنٹے کا ہوائی سفر دنیا کی 80 فیصد آبادی پر محیط ہے۔

"چونکہ خلیجی خطے میں اگلی دہائی کے لیے اقتصادی ترقی کا تخمینہ 2.7 فیصد سالانہ ہے، اس لیے ہوائی سفر میں سالانہ 4 فیصد اضافہ ہو گا، جس کے باعث مشرق وسطیٰ کا خطہ دنیا میں بہت اہم ہے اور بوئنگ کے لیے ایک بہت اہم صارف ہے۔"

چینی طیارہ ساز کمپنی

چینی طیارہ ساز صنعت کے بارے میں انہوں نے کہا، “چین 1.4 بلین افراد کی آبادی کے ساتھ ایک بہت مضبوط معیشت کے ساتھ دوبارہ ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے۔

ہم چین کی ترقی اور اس کے اپنے طیاروں کی تعمیر کی حمایت کرتے ہیں۔ کامیک سی 919 ہماری رائے میں ایک اچھا اور محفوظ طیارہ ہے۔ 2050 تک، وہ 10% مارکیٹ پر کنٹرول کر سکتے ہیں۔

لیکن جب ہم سوچتے ہیں کہ ایوی ایشن مارکیٹ کتنی بڑی ہو گئی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہر ایک کے لیے کاروبار کا موقع بڑھا ہے۔ چاہے یہ بوئنگ ہو یا کامیک جو یقینی طور پر ہمارا اصل حریف ہے۔"

انہوں نے کہا، "بوئنگ حالیہ برسوں میں حادثات کے ساتھ ساتھ عالمی وبائی پابندیوں کے حوالے سے بڑے چیلنجوں سے گزری ہے۔

تاہم، ہماری موجودہ پوزیشن بہت مضبوط ہے، خاص طور پر کمرشل ایوی ایشن کی مانگ ریکارڈ سطح تک بڑھنے کے بعد، ایئر لائنز اپنے بیڑے کی تجدید کر رہی ہیں اور دفاع کے شعبے میں عالمی سطح پر سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے"

100 بلین ڈالر

انہوں نے کہا، "ہم توقع کرتے ہیں کہ 2025 اور 2026 کے لیے ہمارا منافع تقریباً 100 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا، اور ہم تحقیق اور ترقی میں اس میں سے 3 بلین کی سرمایہ کاری کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پائیدار ہوا بازی تک پہنچنے کے لیے کاربن کے اخراج کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ ہوا بازی کا شعبہ عالمی حرارتی گیس کے اخراج میں 2.6 فیصد اور نقل و حمل کے شعبے میں تقریباً 12 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔

ہم پائیدار ہوا بازی کے ایندھن، بجلی اور ہائیڈروجن کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو کاربن کے اخراج کو مکمل طور پر ختم کرنے میں مدد کرتی ہے۔

ان میں سے ایک "وسک "ہے، یہ ہوائی جہاز تیاری کے مراحل میں ہیں، ان کا حفاظتی معیار تجارتی ہوائی جہاز جیسا ہی ہوگا، اور ہم اس کے لیے سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر کے ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بوئنگ اس وقت امریکی خلائی ایجنسی کے ساتھ مل کر انجن ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ہوائی جہاز کے پروں کی تیاری کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ جو انہیں آواز کی رفتار کے قریب پرواز کرنے کے قابل بناتے ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ اس کے نتیجے میں ہوائی سفر میں اعلی کارکردگی ظاہر ہو گی ، کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی، اور کم ایندھن کی کھپت ہوگی۔ اس طیارے کو 2030 کی دہائی کے وسط میں لانچ کیا جائے گا۔

اہم چیلنجز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایوی ایشن سیکٹر سے کاربن کے اخراج کو ختم کرنے کے علاوہ سپلائی چینز کے چیلنجز بھی ہیں، جو ہم 2023 اور 2024 تک جاری رہنے کی توقع رکھتے ہیں اور ہم سپلائی چین کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں۔

دوسرا چیلنج جس کا ہمیں عمومی طور پر سامنا ہے وہ لیبر مارکیٹ ہے۔ کرونا وبا سے باہر نکلنے کے بعد، ہم نے دنیا کے بہت سے خطوں میں بہت ہی تنگ لیبر مارکیٹوں کا مشاہدہ کرنا شروع کر دیا، ہم ایک پیچیدہ ماحول میں کام کرتے ہیں۔

اسی طرح دنیا کے کچھ خطوں میں ہمیں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلوبلائزیشن کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، ہم امریکہ سے باہر انجینئرنگ کی صلاحیتوں کو تیار کرتے ہیں، کاروبار کو مقامی بنانے کے لیے انجینئرنگ مراکز میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ اسی طرح تحقیقی مراکز کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جو بڑی مارکیٹ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں