قتل کے بعد افغانستان کے نائب گورنر کی نماز جنازہ میں بھی دھماکہ، 13 جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

داعش نے دو روز قبل شمالی افغانستان کے صوبے بدخشاں کے نائب گورنر کو نہ صرف نشانہ بنایا اور قتل کیا بلکہ اب ان کے جنازے کو بھی نشانہ بنا ڈالا ہے۔

بدخشاں صوبے کے میڈیا آفس کے سربراہ معز الدین احمدی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ صوبے کے نائب گورنر نصار احمد احمدی کی نماز جنازہ کے دوران مسجد کے اندر ایک دھماکہ ہوگیا جو گزشتہ منگل کو ہونے والے ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ انہوں نے تعداد بتائے بغیر متعدد متاثرین کی موجودگی کی بھی تصدیق کی۔ ایک ذریعہ نے ’’ العربیہ‘‘ کو بتایا کہ ابتدائی تعداد کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 13 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مسجد کے اندر ہونے والے دھماکے کا اصل ہدف صوبہ بغلان کے سابق پولیس چیف مولوی صفی اللہ صمیم تھے۔ دیگر مقامی ذرائع نے اشارہ دیا کہ طالبان کے وزیر اقتصادیات قاری دین محمد حنیف بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ واضح داعش نے اس سے قبل ایک کار بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں علاقے کے نائب گورنر کی ہلاکت ہوئی تھی۔

اگست 2021 میں جب سے طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھالا ہے ملک میں شدت پسند تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کئی مغربی انٹیلی جنس رپورٹس نے ملک میں داعش خراسان کی سرگرمیوں ک بڑھنے سے خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں