چینی کروڑ پتی 27 ویں مرتبہ ہائی سکول امتحان میں شریک ہوگیا

لیانگ شی نے 16 برس کی عمر میں 1983 میں امتحان دینا شروع کیا تھا، اس کا بیٹا بھی امتحان پاس کر چکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چین میں "گاوکاو" کے امتحانات ہائی سکول کے مساوی ہوتے ہیں اور طالب علم کو یونیورسٹی میں شمولیت کے لیے اہل بناتے ہیں ۔ ان لاکھوں چینیوں میں جنہوں نے بدھ کو ہائی سکول کے مساوی "گاوکاو" کے امتحانات کے لیے درخواستیں دی تھیں میں لیانگ شی بھی شامل تھا۔ 56 سال کا لیانگ شی کروڑ پتی ہے اور 27 ویں مرتبہ اس امتحان میں قسمت آزمائی کر رہا ہے۔

زندگی کے امتحان میں لیانگ شی اپنی حاصل کردہ کامیابی پر فخر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک فیکٹری میں ایک عاجزانہ ملازمت سے کیا۔ پھر اپنی تعمیراتی مواد کی کمپنی قائم کی۔ جس میں اب تیزی سے کاروبار ہو رہا ہے۔

تاہم بچاس کی دہائی میں زندگی کاٹنے والے اس شخص کے دل میں ایک درد ہے جسے نہ وقت اور نہ ہی دولت مٹا سکتی ہے۔ وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کے قابل ہونے کے لیے "گاوکاو" کے نام سے جانے والے داخلہ امتحان کے لیے خاطر خواہ نمبر حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہے لیکن مسلسل ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ وہ جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان میں رہتا اور یہاں کی کسی ممتاز یونیورسٹی میں داخل ہونا چاہتا ہے۔

یہ امتحان ایک بہت اہم سٹیشن ہے اور ایشیا کے بڑے ملک کے شہریوں کے لیے ایک ہدف ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو معمولی سماجی گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

چین میں تعلیم کے میدان میں مضبوط مقابلہ اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں محدود نشستیں ہوتی ہیں۔ خاندانوں کی طرف سے اپنے بچوں پر تعلیم حاصل کرنے کے لیے سخت دباؤ ہوتا ہے جو طالب علموں کا بہترین یونیورسٹیوں میں داخلہ بہت مشکل بنا دیتا ہے۔ کسی ممتاز یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنا سماجی ترقی کا ذریعہ ہے اور اس سے کسی اہم کمپنی میں ملازمت حاصل کرنا تقریباً یقینی ہوجاتا ہے۔

اس سال اس کے پاس ایسے امتحانات پاس کرنے کے امکانات ہیں جن میں 13 ملین امیدوار درخواست دے رہے ہیں۔ لیانگ شی نے مہینوں تک "راہب کی زندگی" گزاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں ہر روز فجر کے وقت اٹھتا ہوں اور ہر روز 12 گھنٹے تک خود کو کتابوں میں غرق کیے رکھتا ہوں۔

لیانگ نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ مجھے دکھ دیتا ہے کہ میں یونیورسٹی نہیں جا سکا کیونکہ میں واقعی میں ایسا کرنا چاہتا تھا اور ایک دانشور بننا چاہتا تھا۔

پچھلی چار دہائیوں کے دوران لیانگ شی نے 26 مرتبہ اپنی قسمت آزمائی لیکن ہر بار حاصل کی گئی ڈگری اس یونیورسٹی کے دروازے کھولنے کے لیے کافی نہیں تھی جس میں وہ داخلہ لینا چاہتے تھے۔

لیانگ شی کی کہانی نے انہیں مقامی میڈیا میں ایک سٹار بنا دیا ہے۔ لیانگ شی فخر سے کہتے ہیں کہ میں ہار نہیں مانوں گا۔

1983 میں جب لیانگ شی نے پہلی بار امتحان دیا تو ان کی عمر 16 سال سے زیادہ نہیں تھی اور وہ 1992 میں برطرف ہونے تک اپنے سکور کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 10 سال تک کوشش کرتے رہے تھے۔ اس وقت حکام نے پابندی لگا دی کہ ان امتحانات میں 25 سال یا اس سے کم عمر کے افراد ہی شریک ہوں گے۔ 2001 ایک میں یہ پابندی ختم ہوئی تو لیانگ شی نے محسوس کیا کہ ان کے لیے ایک نیا موقع کھل گیا ہے۔

اس کے بعد سےلیانگ شی نے 16 بار امتحان دیا ہے۔ وہ کووڈ 19 وبا کے آنے تک ہر سال امتحان دیتے رہے۔ بعض افراد نے خیال کیا ہے کہ لیانگ شی ایسا صرف شہرت کے لیے کر رہا ہے۔ اس حوالے سے لیانگ نے جواب دیا کہ مجھے اس سے کیا حاصل ہو سکتا ہے؟۔ کوئی بھی سمجھدار شخص اشتہارات کی مارکیٹنگ کی خاطر دہائیوں تک 'گاوکاو' کے امتحانات نہیں دے سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ میرا اصرار بعض اوقات میرے بیٹے کے لیے کچھ شرمندگی کا باعث بنتا ہے جو 2011 میں "گاؤکاؤ" میں کامیاب ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ ان کا بیٹا اپنے والد کی بار بار کی کوششوں کے ابتدائی طور پر حق میں نہیں تھا لیکن اب اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں