یہ کوئی سربستہ راز نہیں؛ سعودی عرب سویلین جوہری پروگرام تیارکررہا ہے: شہزادہ فیصل

سعودی عرب جوہری پروگرام میں معاونت کے لیے بولی لگانے والوں کے مقابلے میں امریکا کو ترجیح دیتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اپنے سویلین جوہری پروگرام کو فروغ دے رہا ہے اور وہ اس پروگرام کے لیے امریکا کو بولی لگانے والوں میں شامل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

یہ بات سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی ہم منصب انٹونی بلینکن کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ کچھ اور ممالک بولی لگا رہے ہیں، اور ظاہر ہے، ہم دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنا پروگرام وضع کرنا چاہتے ہیں، اور اس کے لیے ایک خاص معاہدے کی ضرورت ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ بعض امور پر ہمارے اختلافات ہیں۔اس لیے ہم ایک ایسا طریق کار تلاش کرنے پر کام کر رہے ہیں جس کے ذریعے ہم سویلین جوہری ٹیکنالوجی پر مل کر کام کر سکیں۔ لیکن، آپ جانتے ہیں، ہم اس پروگرام پر آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں‘‘۔

سعودی عرب نے اپنے پاس موجود یورینیم کو افزودہ کرنے اور پھر ایندھن فروخت کرنے کے لیے امریکی ٹیکنالوجی کی درخواست کی ہے۔ بصورت دیگر سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مدد کے لیے چین، روس یا فرانس کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔سعودی وزیرخارجہ بھی ممکنہ طور پران ممالک کی جانب اشارہ کررہے تھے۔

اس سے قبل محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ سعودی عرب کی صاف توانائی کی منتقلی کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، جس میں پرامن جوہری توانائی پروگرام تیار کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں، لیکن انھوں نے سعودی عرب کے یورینیم افزودگی کے منصوبوں کے لیے امریکی منظوری کا اشارہ دینے سے گریز کیا۔

اس ترجمان نے اس وقت العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امریکا طویل عرصے سے یورینیم کی افزودگی کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور عالمی سطح پر ایندھن کی ری پروسیسنگ ٹیکنالوجیوں پر خرچ کر رہا ہے، کیونکہ ان کی ممکنہ تکنیکی افادیت کے اطلاق سے فسائل (جوہری) مواد پیدا کیا جاسکتا ہے۔ صدر بائیڈن واضح طور پر کَہ چکے ہیں کہ انتظامیہ جوہری عدم پھیلاؤ کے اس دیرینہ امریکی مقصد کے لیے پرعزم ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں