ریپ الزامات کے بعد لبنان نے اپنے سفیر کو پیرس سے واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دو سابق ملازمین کی شکایات کی روشنی میں ریپ اور جان بوجھ کر تشدد کے شبے کی تحقیقات کے بعد لبنان نے پیرس میں اپنے سفیر رامی عدوان کو واپس بلا لیا۔ یہ اعلان خارجہ و تارکین وطن کے امور کی وزارت نے جمعرات کو کیا۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فرانس میں لبنانی سفیر کے معاملے سے متعلق حالات کو دیکھتے ہوئے اور وزارت خارجہ کی طرف سے پیرس میں سفارت خانے کو بھیجی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے جوابات کی روشنی میں سفیر رامی عدوان کو مرکزی انتظامیہ میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اے ایف پی کے مطابق وزارت نے بتایا کہ اس نے فرانسیسی وزارت خارجہ کو مشیر زیاد تان کے مشن کی صدارت سنبھالنے کے بارے میں آگاہ کردیا ہے۔

لبنان نے منگل کے روز وزارت خارجہ کا ایک وفد عدوان سے تفتیش کے لیے پیرس بھیجا تھا۔ وفد نے سفارتی عملے بشمول سفارت کاروں اور منتظمین کی شہادتیں سنیں۔

واضح رہے کہ فرانسیسی وزارت خارجہ نے حال ہی میں سفارت خانے کے دو سابق ملازمین کی طرف سے دو شکایات کے بعد 2017 سے عہدے پر براجمان رامی عدوان کی جانب سے عصمت دری اور پرتشدد کارروائیوں کے شبہ میں تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

عدوان کو بیروت طلب کرنے سے ان کا پیرس کی عدالتوں میں پیش ہونا مشکل ہوجائے گا کیونکہ لبنان اپنے شہریوں کو مقدمے کے لیے بیرونی ممالک کے حوالے نہیں کرتا ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے اے ایف پی کو بتایا کہ فرانسیسی عدلیہ کے کام میں آسانی پیدا کرنے کے لیے عدوان کے حوالے سے لبنانی حکام سے عدوان استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ تاہم اس درخواست کے باوجود لبنان نے عدوان کو واپس بلا لیا ہے۔

پہلی شکایت کرنے والی 31 سالہ خاتون سفارت خانے میں ایڈیٹر تھی۔ خاتون نے جون 2022 میں شکایت جمع کرائی تھی اور کہا تھا کہ مئی 2020 میں عدوان نے اس سے زیادتی کی تھی۔

دوسری شکایت کنندہ 28 سال کی خاتون تھی اس نے 2018 میں سفارت خانے میں بطور ٹرینی کام کرنا شروع کرنے کے فوراً بعد سفیر کے ساتھ گہرا تعلق قائم کر لیا تھا۔ اس خاتون نے فروری میں شکایت درج کرائی تھی کہ تعلقات قائم کرنے سے انکار پر عدوان نے اسے متعدد بار تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں