سعودی-امریکی سرپرستی میں، سوڈان میں 24 گھنٹے کی نئی جنگ بندی کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب اور امریکا نے اعلان کیا کہ سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے نمائندوں کے درمیان 24 گھنٹے کے لیے ملک گیر جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

جنگ بندی کل صبح، ہفتہ کو خرطوم کے وقت کے مطابق چھ بجے شروع ہو گی۔

معاہدے کے مطابق، سوڈان میں تنازع کے دونوں فریق عام افراد تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے سیز فائر پر عمل پیرا ہوں گے۔

ادھر ریاض اور واشنگٹن نے سابقہ ​​جنگ بندی معاہدوں کی عدم تعمیل کی وجہ سے سوڈانی عوام کی مایوسی کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ اگر سوڈان میں تنازعہ کے دونوں فریق جنگ بندی کی پابندی نہیں کرتے ہیں تو ہم جدہ مذاکرات کو ملتوی کرنے پر مجبور ہیں۔

12 سے زیادہ جنگ بندی معاہدے

سوڈان کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک دونوں متحارب گروپ تقریباً 12 مرتبہ جنگ بندی تک پہنچے ہیں، مگر گزشتہ ماہ (مئی 2023) امریکی ثالثی سے جدہ میں شروع ہونے والی بات چیت کے باوجود ان میں سے سبھی کی خلاف ورزی کی گئی تھی اور یہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکے تھے۔

خرطوم کا ایک منظر: رائٹرز
خرطوم کا ایک منظر: رائٹرز

دریں اثنا، عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈانی فوج نے 31 مئی کو ہونے والے مذاکرات میں ، ریپڈ سپورٹ کی جانب سے جدہ میں پہلے دستخط کیے گئے وعدوں کی عدم تعمیل کے خلاف احتجاجا اپنی شرکت ملتوی کر دی تھی۔

تاہم، ان مذاکرات کے حامی ممالک نے چند روز قبل دونوں فریقوں کے درمیان الگ الگ بات چیت کا آغاز کیا، اس امید پر کہ وہ جنگ بندی تک پہنچیں گے جس سے ملک میں ڈرامائی طور پر حالات خراب ہونے کے بعد، شہریوں تک انسانی امداد کی ترسیل ممکن ہوسکے گی۔

بات چیت کی معطلی

دونوں فریقین نے جنگ بندی کے بار بار کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے جس سے شہریوں کو لڑائی والے علاقوں سے نکلنے یا امدادی امداد کے داخلے کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنے کا موقع نہیں مل پارہا۔

ایک ہفتہ سے بھی زیادہ عرصہ قبل سعودی امریکی ثالثی کے ساتھ طے پانے والا آخری جنگ بندی معاہدہ عین جدہ میں ہونے والے مذاکرات کے موقع پر ٹوٹ گیا۔

اس کے بعد ریاض اور واشنگٹن نے مذاکرات کو معطل کرنے کا اعلان کیا تاہم انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں