"چیٹ جی پی ٹی نے بوگس قانونی حوالے دے کر بہکایا" امریکی عدالت میں وکلا کی معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک امریکی عدالت میں ایک کیس میں غلط اور فرضی حقائق کا حوالہ دینے پر ناراض جج کو تحریری معذرت پیش کرتے ہوئے دو وکلاء نے جمعرات کو چیٹ جی پی ٹی پر الزام لگایا کہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ نے عدالتی تحقیقات میں فرضی قانونی تحقیق کو شامل کرنے کے لیے انہیں دھوکہ دیا۔

تفصیلات کے مطابق، مین ہٹن امریکا کی وفاقی عدالت میں اٹارنی اسٹیون اے شوارٹز اور پیٹر لو ڈوکا کو ایک ایئر لائن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر ممکنہ سزا کا سامنا ہے جس میں ماضی کے عدالتی مقدمات کے حوالے شامل تھے جو شوارٹز کے خیال میں حقیقی تھے، لیکن حقیقت میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹ کے ذریعے ایجاد کیے گئے تھے۔

شوارٹز نے غلط حوالوں کے انکشاف کے بعد وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس نے کولمبیا کی ایئر لائن ایویانکا کے خلاف 2019 کی فلائٹ میں ہونے والے ایک حادثے سے متعلق مقدمے کی حمایت میں سابقہ قانونی نظیروں کی تلاش کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا تھا۔

چیٹ بوٹ، نے کئی ایسے معاملات تجویز کیے جس میں ہوا بازی کے حادثات شامل تھے جنہیں شوارٹز اپنی قانونی فرم میں استعمال ہونے والے معمول کے طریقوں سے تلاش نہیں کر پائے تھے۔

مسئلہ یہ تھا کہ ان میں سے کئی کیسز حقیقی نہیں تھے یا ملوث ایئر لائنز ایسی تھیں جن کا وجود ہی نہیں تھا۔

شوارٹز نے امریکی ڈسٹرکٹ جج پی کیون کاسٹل سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ حوالہ جات درست ہونے کو یقینی بنانے کے لیے فالو اپ تحقیق کرنے میں "بُری طرح ناکام" ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ "غلط فہمی کے تحت کام کر رہے تھے ۔۔۔ کہ ویب سائٹ یہ کیس کسی ایسے ذریعہ سے حاصل کر رہی ہے جس تک میری رسائی نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا، "میں نہیں سمجھتا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی خود کیسز بنا سکتا ہے۔"

جج کاسٹیل اس غیر معمولی واقعہ پر حیران اور پریشان نظر آئے اور مایوس ہوئے کہ وکلاء نے جعلی قانونی حوالوں کو درست کرنے کے لیے فوری کارروائی نہیں کی جب انہیں پہلی بار فضائی کمپنی ایوانکا کے وکلاء اور عدالت کی طرف سے اس مسئلے سے آگاہ کیا گیا۔

ایوانکا نے مارچ میں بوگس کیس قانون کی نشاندہی کی تھی۔

شوارٹز نے کہا، "میں مخلصانہ طور پر معافی مانگنا چاہوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس غلطی کے نتیجے میں اسے ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر نقصان اٹھانا پڑا ہے اور "شرمندہ، ذلت آمیز اور انتہائی پچھتاوا" محسوس کیا ہے۔

جج نے کہا کہ وہ وکلاء پر قانونی پابندیوں کے حوالے سے آئندہ کی تاریخ میں فیصلہ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں