سعودی ڈاکٹر نے کینیڈین نوجوان کی جان بچا لی، کینیڈا میں ثقافتی اتاشی کا خراج تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کینیڈا میں ایک سعودی ڈاکٹر نے بیماری کے متعلق اپنے گراں قدر انسانی رویے کی بنا پر علاج کر کے ایک نوجوان کی جان بچانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ میک گل یونیورسٹی میں گردے اور یورولوجی کی سرجری کے دوران سائنسی اور پیشہ ورانہ مہارت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ نہ صرف میگ یونیورسٹی کے شعبہ یورولوجی نے ان کا شکریہ ادا کیا بلکہ کینیڈا میں سعودی ثقافتی اتاشی محمد بن عبدالله الجبرين نے بھی انہیں اعزاز سے نواز دیا۔

سکالرشپ پر پڑھنے والے ڈاکٹر عبدالغنی خوقیر نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے بیس سال کے ایک کینیڈین نوجوان کی جان بچائی جو ایک ٹریفک حادثہ کا شکار ہوا تھا اور پیشاب کی نالی کی بحالی سے پہلے مکمل معائنے کے اخراجات تک ادا کرنے سے قاصر تھا۔ ڈاکٹر عبد الغنی نے اس دوران انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پھر بھی اس نوجوان کا علاج کیا۔ اسی بنا پر سعودی ثقافتی اتاشی نے انہیں اس انسانی خدمت کے لیے اعزاز سے نوازا۔

ڈاکٹر عبدالغنی خوقیر نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں مریض کی کمر کے نیچے کی ہڈی جسے شرونی بھی کہا جاتا ہے ٹوٹ گئی تھی۔ مریض کو پیشاب کی نالی میں شدید چوٹ آئی تھی اور پیشاب کرنے سے بھی قاصر ہوگیا تھا۔ اس کے لیے اس وقت تک کیتھیٹر لگا دیا گیا تھا جب تک کہ حالت مستحکم نہ ہو جائے۔ اس مرحلہ پر ہم نے پیشاب کی نالی کے لیے دوبارہ تعمیراتی آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا اور کامیاب آپریشن کے بعد اسے دوبارہ اصلی حالت میں بحال کردیا۔ اس آپریشن کے لیے احتیاط سے جانچ کی ضرورت ہے تاکہ عضو مخصوص میں خون کے بہاؤ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں۔

سعودی ڈاکٹرعبد الغنی نے مزید بتایا کہ یہ معائنہ جو میں نے مریض کے لیے کیا تھا وہ ہسپتال کے کسی بھی ڈاکٹر نے پہلے نہیں کیا تھا۔ میں نے رضاکارانہ طور پر مریض کے لیے یہ معائنہ مفت کیا کیونکہ وہ خرچہ ادا کرنے سے قاصر تھا،۔ میں مریض کی صحت کے لیے فکر مند تھا اور سرجری میں تاخیر نہ کرنا چاہتا تھا تاکہ مریض معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے مریض کے اہل خانہ کی جانب سے بھی شکریہ کے بہت سے خطوط موصول ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں