فرانس: بچّوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے شامی پناہ گزین پراقدام قتل کی فردِ الزام عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانس میں ججوں نے فرانسیسی الپس پارک میں چار کم سن بچّوں اور دو بالغوں کو چاقو گھونپنے والے مبیّنہ شامی پناہ گزین پر اقدام قتل کی فردِ الزام عاید کی ہے۔

مشتبہ 31 سالہ شامی پناہ گزین سویڈن میں مستقل رہائش پذیر ہے اور اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔اس کی تین سالہ بیٹی اور بیوی سویڈن ہی میں مقیم ہیں۔

فرانس کے مرکزی پراسیکیوٹر لائن بونٹ ماتھیس نے ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اس شخص کو ہفتے کے روز جھیل کے کنارے واقع قصبے اینیسی میں تفتیشی ججوں کے سامنے پیش کیا گیا۔اس پر اقدامِ قتل اور مسلح مزاحمت کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ وہ مزید تفتیش تک حراست میں رہے گا۔

استغاثہ نے کہا کہ جمعرات کو کھیل کے میدان میں اور اس کے آس پاس ہونے والے حملے میں زخمی متاثرین اب جان لیوا حالت میں نہیں ہیں۔ ان بچّوں کی عمریں 22 ماہ سے 3 سال کے درمیان ہیں اور وہ اب بھی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔چھے مجروحین کا تعلق چار مختلف ممالک فرانس، برطانیہ، نیدرلینڈز اور پرتگال سے ہے۔ان میں چارکم سن بچّے اور دو بالغ افراد ہیں۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ نفسیاتی ماہرین نے مشتبہ ملزم کا معائنہ کیا ہے اور انھوں نے اسے عدالت میں الزامات کا سامنا کرنے کے لیے موزوں قراردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وحشیانہ حملے کا محرک ابھی تک واضح نہیں ہے ، لیکن ایسا نہیں لگتا کہ اس کا تعلق دہشت گردی سے ہے۔

استغاثہ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملہ آور کو اپنی بیٹی، اپنی بیوی اور یسوع مسیح کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔پولیس نے مشتبہ شخص کو فرانسیسی الپس میں واقع قصبے اینیسی میں جھیل کے کنارے پارک سے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہاں موجود ایک کیتھولک زائر نے حملہ آور کو اپنے بیگ سے بار بار نشانہ بنایا اور اسے فرار ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

فرانسیسی صدرعمانو ایل ماکرون نے جمعہ کے روز زخمیوں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے بتایا چاقو حملے میں شدید زخمی ہونے والے دو نوجوانوں کی حالت بہتر ہو گئی ہے اور ڈاکٹران کے بارے میں ’بہت پراعتماد‘ ہیں۔یہ دونوں زخمی آپس میں کزن ہیں۔

فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ زخمی برطانوی لڑکی ہوش میں آگئی ہے اور وہ ٹیلی ویژن دیکھ رہی ہے۔زخمی ڈچ بچّی کی حالت میں بھی بہتری آئی ہے اور ایک شدید زخمی بالغ شخص بھی ہوش میں آ رہا ہے۔وہ مشتبہ حملہ آور کو حراست میں لینے کے دوران میں پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا۔اس شدید زخمی بالغ کا اینیسی ہی میں علاج کیا گیا تھا۔

پرتگال کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ پرتگالی شہری ہے اور اب اس کی حالت خطرے سے باہرہے۔ وہ حملہ آور کو فرار ہونے سے روکنے کی کوشش میں زخمی ہوا تھا۔دوسرے زخمی بالغ کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ اس کی بائیں کہنی پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔

ایک عینی شاہد، فرانس میں گرجا گھروں کے نو ماہ تک پیدل سفر کرنے والے 24 سالہ زائر ہنری کا کہنا ہے کہ بچّوں پر چاقو کے وار کرنے کا خوف ناک واقعہ ان کے سامنے رونما ہوا تھا۔وہ اس وقت ایک اور جگہ جانے کا قصد کررہے تھے۔

حملہ آور نے ان پر بھی چاقو سے وار کیا ، لیکن ہنری نے زمین پرقدم جماتے ہوئے اپنا وزنی بیگ حملہ آورکی طرف اچھال دیا تھا۔ہنری کے والد کا کہنا تھا کہ ’’ بیٹے نے 'مجھے بتایا کہ شامی غیر مربوط انداز میں گفتگو کررہا تھا،مختلف زبانوں میں بہت سی عجیب و غریب باتیں کَہ رہا تھا،وہ اپنے والد، اپنی ماں اور خداؤں کو پکاررہا تھا‘‘۔'

مشتبہ شخص کے پروفائل نے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند سیاست دانوں کی جانب سے فرانس کی پناہ گزینوں کے بارے میں پالیسی پر ایک بار پھر تنقید کو ہوا دی ہے۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص قانونی طور پر فرانس میں داخل ہوا تھا کیونکہ اس کی سویڈن میں مستقل اقامت کی حیثیت ہے۔ سویڈن اور فرانس دونوں یورپی یونین اور یورپ کے بارڈر فری ٹریول زون کے رکن ہیں۔

فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس شخص نے گذشتہ سال فرانس میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی اور حملے سے چند روز قبل اس کی درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا تھا کہ وہ 2013 میں سویڈن میں سیاسی پناہ حاصل کر چکاہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں