ہم ٹرمپ کے خلاف مقدمے کی جلد سماعت کی درخواست کریں گے : اسپیشل پراسیکیوٹر

خفیہ دستاویز سابق امریکی صدر کی رہائش گاہ مار آلاگو کے بال روم اور کئی دیگر حصوں میں رکھی گئی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 49 صفحات پر مشتمل فردِ جرم جمعے کے روز ان سیل (Unseal) کر دی گئی جس کے مطابق سابق صدر کو دیگر الزامات کے علاوہ، نیوکلئیر ہتھیاروں اور فوجی حملوں کے منصوبوں کی دستاویزات سمیت دیگر خفیہ دستاویزات کو غلط طریقے سے رکھنے کے الزامات کا سامناہے، جن میں، جاسوسی ایکٹ کی 31 خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔

فردِ جرم میں، جس میں تصاویر بھی شامل ہیں، کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتہائی خفیہ دستاویزات کو، جو وہ 2021 میں، وائٹ ہاؤس سے جاتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے تھے، مارا لاگو میں اپنی رہائش گاہ کے باتھ روم، شاور، اپنے بیڈ روم اور سونے کی تہہ سے مزین بال روم میں رکھ دیا تھا اور مبینہ طور پر انہوں نے یہ دستاویزات دو مرتبہ دوسروں کو بھی دکھائیں۔

ٹرمپ پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے فائلیں اپنے پاس رکھنے سے متعلق وفاقی تحقیقات کو بھی روکنے کی کوشش کی۔

امریکہ کے اسپیشل پراسیکیوٹر جیک سمتھ نے فردِ جرم عام کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاوس سے جانے کے بعد امریکی سکیورٹی کے بعض سب سے حساس راز خطرے میں ڈال دیے۔

انہوں نے کہا،" ہمارے قوانین جو ملکی دفاعی معلومات کی حفاظت کرتے ہیں، امریکہ کے تحفظ اور سکیورٹی کے لیے بے حد اہم ہیں۔ اور ان پر لازمی عملدرآمد ہونا چاہئیے۔"

ٹرمپ کی جانب سے چھپائی گئی حساس دستاویزات: رائیٹرز

اسپیشل پراسیکیوٹر سمتھ نے واضح کیا کہ ٹرمپ کی سابق صدر اور موجودہ صدارتی امیدوار کی حیثیت انہیں کوئی خصوصی حق نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا، "ہمارے ملک میں ایک ہی طرح کے قوانین ہیں جن کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔"

سابق امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف فردِ جرم عائد ہو نے پر ڈیموکریٹس کے علاوہ ان کی ریپبلکن پارٹی کے ارکان نے بھی اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

امریکی سینٹ میں اکثریتی لیڈر ڈیموکریٹک سینیٹر چک شمر اور ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفری نے جمعے کو ٹرمپ کے حامیوں اور ناقدین پر زور دیا کہ وہ ان کے کیس کو " عدالت میں پر امن طریقے سے چلنے دیں۔" اور یہ کہ کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔

امریکی نیوز چینل فاکس نیوز نے، امریکی ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن سپیکر کیون میکارتھی کا ایک ٹویٹ نشر کیا جس میں انہوں نے کہا، " جو الزامات عائد کیے جا رہے ہیں یہ ہمارے ملک کو درہم برہم کر دیں گے کیونکہ یہ معاملہ سب کے لیے انصاف تک جائے گا جو کہ آج ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اور ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔"

اس سے پہلے صدر بائیڈن سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا انہوں نے ٹرمپ کے خلاف فردِ جرم کے فوراً بعد امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ سے کوئی بات کی تو انہوں نے کہا،" میں نے ان سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی میں کروں گا۔"

ڈیری، نیو ہیمپشرمیں ان کی صدراتی مہم کے دوران ٹرمپ کے دور کے نائب صدر مائیک پنس نے نامہ نگار کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا ٹرمپ کو اپنی صدارتی مہم ختم کر دینی چاہئیے، کہا کہ نہیں۔

مائیک پنس نے جو خود بھی 2024 کے لیے صدارتی امیدوار ہیں، مزید کہا، " ابھی ایسا کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ امریکہ میں کوئی بھی شخص جرم ثابت ہونے سے پہلے بے گناہ تصور ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ سابق صدر کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔"

ٹرمپ کی جانب سے چھپائی گئی حساس دستاویزات: رائیٹرز

سابق امریکی صدر منگل کو میامی، فلوریڈا کی ایک عدالت میں پیش ہوں گے، جس کی امریکی سیکرٹ سروس تیاری کر رہی ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے سابق صدر ہیں، جنہیں وفاقی حکومت کی طرف سےایسے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ پر دیگر الزامات کے ساتھ ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے ان قوانین کی خلاف ورزی کی، جس کے تحت 'قومی سلامتی سے متعلق معلومات' کو غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھنا جرم ہے۔ اس کیس میں دس سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر کرمنل چارجز عائد کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل نیویارک کی ریاستی عدالت میں ٹرمپ پر 2016 میں خفیہ رقوم کی ادائیگیوں سے متعلق جھوٹے کاروباری ریکارڈ کے متعلق فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں