تاریخ کے مہلک ترین شارک حملوں میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے

ریسکیو ٹیموں کی تاخیر کے باعث دوسری جنگ عظیم کے دوران شارک کے حملوں سے بڑی تعداد میں اموات ہوئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دنیا میں قدیم زمانے سے سمندری سفر کے دوران ملاحوں اور مسافروں کو شارک مچھلیوں کے خطرے کا سامنا رہا ہے۔ سمندر سے گزر کر سفر کرنے میں بحری جہاز کے ڈوبنے کی صورت میں بچ جانے والوں کو ہمیشہ سے شارک مچھلی کے خوفناک حملوں کا اندیشہ رہا ہے۔ یہ مچھلیاں کسی مدد کے پہنچنے سے پہلے بحری جہاز کے ڈوبنے کے بعد بچ جانے والوں کو اپنا لقمہ بنا لیتی تھیں۔ تاریخ میں کئی بڑے شارک حملوں کا تذکرہ ملتا ہے جن میں سینکڑوں انسانوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ان حملوں میں سب سے نمایاں دوسری جنگ عظیم کے دوران ہونے والے شارک حملے تھے۔ ان حملوں کے دوران شارک مچھلیاں اکثر ریسکیو ٹیموں سے زیادہ تیز ثابت ہوتی تھیں۔ شارک مچھلیوں کے خوفناک حملوں میں نمایاں حملے یہ ہیں۔

شارک
شارک

یو ایس ایس انڈیاناپولس

30 جولائی 1945 کو امریکی بحری جہاز یو ایس ایس انڈیانا پولس نے جاپان پر حملے کے آغاز کی تیاری کے لیے یو ایس ایس ایڈاہو کے ساتھ شامل ہوکر فلپائن میں گوام اور لیٹے بے کے درمیان سفر کیا تھا۔ صرف 4 دن پہلے اس امریکی بحری جنگی جہاز نے پہلا ایٹم بم ہیروشیما پر گرانے کی تیاری کے لیے ٹنیان جزیرے کی طرف منتقل کیا تھا۔

یو ایس ایس انڈیاناپولس کی تصویر
یو ایس ایس انڈیاناپولس کی تصویر

لیٹے بے کے آدھے راستے میں یو ایس ایس انڈیانا پولس کو ایک ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا جسے ایک جاپانی آبدوز نے فائر کیا تھا۔ اس حملے کی وجہ سے یو ایس ایس انڈیانا پولس چند منٹوں میں ڈوب گیا۔ اس امریکی بحری جہاز پر لگ بھگ ایک ہزار 196 امریکی فوجی سوار تھے۔ جاپانی حملے سے قبل 900 سے زیادہ امریکی ملاح لائف جیکٹس پہن کر پانی میں کودنے میں کامیاب ہوگئے۔

یو ایس ایس انڈیاناپولس کے ڈوبنے کی منظر کشی
یو ایس ایس انڈیاناپولس کے ڈوبنے کی منظر کشی

ریسکیو ٹیموں کے دیر سے آنے کے بعد اگلے دن بچ جانے والوں پر سفید شارک نے حملہ کردیا۔ شارک مچھلیوں کے حملے میں 600 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے۔ ریسکیو ٹیمیں صرف 317 ملاحوں کو بچانے میں کامیاب ہو سکی تھیں۔

کیپ سان جوآن ٹروپ کیریئر

12 نومبر 1943 کو امریکی بحری جہاز کیپ سان جوآن نے بحر الکاہل میں فجی جزائر کے قریب ایک جاپانی تارپیڈو کو نشانہ بنایا۔ اس جہاز پر تقریباً ایک ہزار 438 فوجی سوار تھے۔ ان میں 13 سو سے زیادہ پیادہ فوجی بھی شامل تھے جو سان فرانسسکو سے آسٹریلیا کے شہر ٹاؤنس ویل جا رہے تھے۔

جہاز کے ٹکرانے کے بعد ٹارپیڈو کے پھٹنے سے 130 فوجی ہلاک ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں کی آمد سے 483 ملاح سمندر سے نکالے جانے کے بعد زندہ بچ جانے میں کامیاب ہو گئے۔ 600 سے زیادہ دیگر فوجی یا تو ڈوب گئے یا شارک حملوں میں ہلاک ہوگئے۔

جہاز کیپ سان جوآن کی تصویر
جہاز کیپ سان جوآن کی تصویر

اے پی سی نووا سکوشیا

28 نومبر 1942 کو برطانوی فوجی بردار جہاز نووا سکوشیا کو ایک جرمن ٹارپیڈو نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ جنوبی افریقہ کے ساحل سے صرف 50 کلومیٹر دور تھا۔ اس بحری جہاز پر 134 برطانوی فوجی اور 650 اطالوی جنگی قیدی سوار تھے۔ اس کے علاوہ 118 افراد پر مشتمل جہاز کا عملہ بھی موجود تھا۔

صرف 7 منٹ میں جہاز ڈوب گیا۔ جرمن آبدوز منظر عام پر آئی اور بچ جانے والوں میں سے صرف دو کو پوچھ گچھ کے لیے باہر نکالا گیا۔ باقی سب کو سمندر میں چھوڑ دیا گیا۔

بعد ازاں برطانوی امدادی ٹیمیں زندہ بچ جانے والے 190 افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوئیں۔ دوسری طرف 700 سے زائد دیگر ہلاک ہوگئے۔ ان ہلاکتوں کی وجہ بھی ڈوبنا یا سفید شارک کے حملوں کا نشانہ بننا تھا۔

نیو جرسی 1916

پہلی جنگ عظیم میں شامل ہونے سے پہلے امریکہ 1916 میں امریکیوں کی بڑی تعداد شہر کے ماحول سے دور سمندر سے لطف اندوز ہونے کے لیے نیو جرسی کے ساحلوں پر پہنچ گئی۔ 1 اور 12 جولائی 1916 کے درمیان شارک کے حملوں نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس عرصے کے دوران شارک کے حملوں میں 4 امریکی ہلاک اور دیگر شدید زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں