جی سی سی،چین مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کو اُبھرتی صنعتوں کا تحفظ کرناچاہیے:خالد الفالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری نے کہا ہے کہ چین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان زیرغور مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کوخطے کی ابھرتی ہوئی صنعتوں کا تحفظ کرناچاہیے۔انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاہدے کو جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔

وہ اتوار کے روز الریاض میں عرب چین بزنس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وزیربرائے سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا:’’ہمیں اپنی صنعتوں کو برآمدات کے قابل اور بااختیار بنانے کی ضرورت ہے، لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ تمام ممالک جو آزاد تجارتی معاہدوں کے لیے ہمارے ساتھ بات چیت کرتے ہیں،وہ جانتے ہیں کہ ہمیں اپنی نئی اور ابھرتی ہوئی صنعتوں کے تحفظ کی ضرورت ہے‘‘۔

انھوں نے مزید تفصیل فراہم کیے بغیر کہا کہ ہمیں انھیں مارکیٹ کی معاشیات اور کسی قسم کا تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ چین اور جی سی سی کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر بات چیت 2004 میں شروع ہوئی تھی لیکن یہ بار بار تعطل کا شکار رہی ہے اور 2016 میں نویں دور کے بعد اس میں لمبا وقفہ آگیا تھا۔تاہم حال ہی میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب اور چین کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی کے بعد بات چیت میں ایک مرتبہ پھر تیزی آئی ہے۔چین کے وزیر خارجہ نے 2021 کے اوائل میں بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا تھا۔

خالد الفالح نے اپنی گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’’مذاکرات جلد ہی ایک معاہدے کی شکل اختیار کر لیں گے۔ہم نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔دونوں اطراف کی قیادت مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر رہی ہے‘‘۔

خلیج کی دو بڑی معیشتوں ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے گھریلو اقتصادی ترقی اور غیر تیل کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے نئی صنعتی حکمت عملی کا آغاز کیا ہے۔ سعودی عرب گھریلو مینوفیکچرنگ، کان کنی،معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں کو ترقی دے رہا ہے۔

خالد الفالح نے کہا:’’جی سی سی ممالک ،خاص طور پر خطے کی سب سے بڑی معیشت ، آبادی اور افرادی قوت کے لحاظ سے سعودی عرب، کو توانائی کے شعبے کے علاوہ دیگر شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کو تجارتی معاہدوں اور سرمایہ کاری کو شراکت داری میں شامل کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی ہائیڈرو کاربن مرتکز معیشتوں کو متنوع بنانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں