سعودی وزیر توانائی کو چین کے ساتھ دوطرفہ تعاون کے معاہدوں کے مزید اعلانات کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب اور چین کے درمیان تعاون کے معاہدوں کے مزید اعلانات کی توقع کرتے ہیں۔

الریاض میں اتوار کو دسویں عرب چین تجارتی کانفرنس کے دوران میں شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ حال ہی میں کچھ اعلانات کیے گئے ہیں اور مجھے حیرت نہیں ہوگی کہ آپ جلد ہی کچھ اور اعلانات سنیں گے۔

انھوں نے اس بارے میں بھی کچھ بصیرت فراہم کی ہے کہ سعودی عرب مختلف وجوہات کی بنا پر چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری برقرار رکھنے میں کیوں دلچسپی رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’میں اس بات کا اندازہ لگاؤں گا کہ ہم چین میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں، یہ بہت آسان ہے۔ جب تیل کی بات آتی ہے تو چین میں تیل کی طلب اب بھی بڑھ رہی ہے لہٰذا یقیناً ہمیں اس طلب کو پورا کرنا ہوگا‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم چین میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس خام تیل سے کیمیکلز تک کا ایک متحرک اور سود مند پروگرام بھی ہے۔اس میں چینی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے فریق ہیں۔

شہزادہ عبدالعزیز نے سعودی عرب اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے گرم جوش تعلقات پر ہونے والی تنقید کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس طرح کی تنقید کو نظر انداز کیا جانا چاہیے۔

الریاض میں ہونے والے اس عرب چین بزنس کانفرنس کے 10 ویں اجلاس کا مقصد سرمایہ کاری، معیشت اور تجارت کے شعبوں میں بیلٹ اور روڈ اقدام پر مبنی تزویراتی عرب چین شراکت داری کو بڑھانا ہے۔اس میں 23 ممالک کے 3,000 سے زیادہ فیصلہ ساز، سرکاری عہدے دار، سرمایہ کار، کاروباری مالکان اور ماہرین شریک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں