واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے: اسرائیلی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے مؤقر عبرانی اخبار’ یدیعوت احرونوت‘ نے اسرائیل کے سینیر حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کے لیے پریشانی کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے پس منظر میں اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ آئندہ جمعرات کو اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن سے ملاقات کریں گے۔

یہ ملاقات کسی یورپی ملک میں ہو گی مگر اس کے بارے میں اخبار نے وضاحت نہیں کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے وزراء کو امریکا میں امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں سے روک دیا۔

اخباری رپورٹس کے مطابق جب تک انہیں وائٹ ہاؤس کی طرف سے باضابطہ دعوت نامہ موصول نہیں ہو جاتا اس وقت تک اسرائیلی وزراء امریکا نہیں جائیں گے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق نیتن یاہو کو امریکا کی دعوت نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کا دورہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔

جوہری ایران
جوہری ایران

مزید برآں امریکی ایران کے ساتھ نہ صرف جوہری فائل سے متعلق بالواسطہ بات چیت کر رہے ہیں بلکہ قیدیوں کے تبادلے اور تمام شعبوں میں "در پردہ مفاہمت" تک پہنچنے کی کوششوں جیسے دیگر امور پر بھی بات کر رہے ہیں۔

امریکا ایران کے ساتھ ایک نیا طویل مدتی معاہدہ چاہتا ہے لیکن اسرائیل میں اندازہ یہ ہے کہ ایرانی اس سے اتفاق نہیں کریں گے اور 2015ء کے جوہری معاہدے کی واپسی کا مطالبہ کریں گے۔

مُمکن ہے قیدیوں کی رہائی اور ایرانی فنڈز کے اجراء پر معاہدے طے پا جائیں جو تہران پر عائد پابندیوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ اس کے بدلے میں ایران کو کئی شرائط پوری کرنی ہوں گی جن میں جوہری تنصیبات پر کنٹرول بحال کرنے اور یورینیم کی افزودگی کو روکنے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ وعدہ شامل ہے۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق یورپی ممالک تہران کی طرف امریکا کے مقابلے میں مضبوط رویہ اختیار کر رہے ہیں، خاص طور پر ایران کی جانب سے روس کی یوکرین کےخلاف مدد کے بعد یورپی ممالک کا تہران کے حوالے سے موقف سخت ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں