روس اور یوکرین

ویگنر کو روسی وزیر دفاع سے کسی معاہدے پر دست خط کی اجازت نہیں دی جائے گی: پریگوژن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی بدنام زمانہ ملیشیا کے سربراہ یوفگینی پریگوژن نے اتوار کے روز کہا ہے کہ ویگنر گروپ کے جنگجو وزارتِ دفاع کے ساتھ کسی معاہدے پر دست خط نہیں کریں گے۔انھوں نے روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوجی نظم اور ڈھانچوں کا انتظام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب شوئیگو نے فوج کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مبیّنہ طور پر "رضاکارانہ تشکیلات" کی تنظیم کو باضابطہ بنانے کا حکم نامہ جاری کیا۔اس حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ تمام رضاکار جنگجو وزارت دفاع کے ساتھ انفرادی معاہدوں پر دست خط کریں۔

پریگوژن نے اپنے ویگنر جنگجوؤں کو وزارت دفاع کے کنٹرول میں لانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا:’’ویگنرجنگجو وزیردفاع شوئیگو کے ساتھ کسی معاہدے پر دست خط نہیں کریں گے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ویگنر پہلے ہی فوج کے جرنیلوں اور بائیں، دائیں اور وسط کے یونٹ کمانڈروں کے ساتھ اپنی کارروائیوں کو مربوط کر چکے ہیں۔ان کا گروپ انتہائی تجربہ کار ہے اور بہت مؤثر ڈھانچا رکھتا ہے۔

انھوں نے وزیر دفاع کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: "بدقسمتی سے ، زیادہ تر فوجی یونٹ (ویگنر جیسی) کارکردگی کے حامل نہیں ہیں اور(اس کی وجہ یہ ہے) کہ شوئیگو فوجی ڈھانچوں کا انتظام نہیں کرسکتے ہیں۔

شوئیگو کے حکم نامے کو مسترد کرنا اس کہانی کی تازہ قسط ہے جس میں پریگوژن نے عوامی طور پر فوج کے اعلیٰ حکام کے خلاف سخت بیان بازی کی ہے اور باربار شوئیگو اور چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف کو ان کی کارکردگی کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تاہم ویگنر کے سربراہ نے صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے ’’ویگنر مکمل طور پر روسی فیڈریشن اور سپریم کمانڈر اِن چیف کے مفادات کے ماتحت ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں