گیارہ برطانوی یونیورسٹیوں پر ایرانی ڈرونز تیار کرنے میں مدد کا الزام

مشترکہ منصوبوں میں تہران میں سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی وزارت نے تعاون کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

برطانوی اخبار ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ 11 برطانوی یونیورسٹیوں پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ انہوں نے ایرانی ہتھیاروں کو تیار کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان ہتھیاروں میں "خودکش ڈرونز" بھی شامل ہے۔ لندن کی جانب سے ایران کو ملٹری ٹیکنالوجی برآمد کرنے پر پابندی کے باوجود ایسی دوہری استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد نہیں ہے جو عسکری کے ساتھ عام شہریوں کے لیے بھی موزوں ہوتی ہے۔ برطانوی حکومت نے بالآخر ان ایرانیوں پر پابندی عائد کر دی ہے جو یوکرین میں استعمال کیے جانے والے ڈرونز روس کو فراہم کر رہے تھے۔

تاہم برطانوی اخبار کے مطابق ایک ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ میں محققین ایرانی حکومت کی ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے میں مدد کر رہے ہیں جسے ڈرون اور لڑاکا طیاروں کی تیاری کے پروگرام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے جیوش کرانیکل نے رپورٹ کیا کہ ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برطانیہ میں تعلیمی تحقیق کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے انویسٹی گیشن کرے۔

اخبار "ڈیلی ٹیلی گراف" کے مطابق تقریبا 11 برطانوی یونیورسٹیاں اس تعلیمی تحقیق میں حصہ لے رہی ہیں جن کے دوران ملازمین ممکنہ ایرانی ملٹری ایپلی کیشنز کے ساتھ کم از کم 16 مطالعہ جات تیار کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیمبرج، امپیریل کالج لندن، یونیورسٹی آف گلاسگو، یونیورسٹی آف کرین فیلڈ اور نارتھمبریا یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں کے ماہرین تحقیق میں حصہ لے رہے ہیں۔ اخبار نے کہا کہ تہران کی طرف سے فنڈ کیے گئے ایک پروجیکٹ میں برطانیہ کے محققین نے ڈرون کے انجن کو اس کی اونچائی، رفتار اور رینج کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا۔ ایک اور برطانوی یونیورسٹی نے ایرانی محققین کے ساتھ مل کر فوجی ایپس میں رد عمل کے وقت کو بڑھانے کے لیے جیٹ انجنوں کے لیے نئے کنٹرول کی جانچ کرنے کے لیے کام کیا۔

خارجہ امور کی پارلیمانی سلیکٹ کمیٹی کی سربراہ ایلیسیا کیرنز نے کہا ہے کہ وہ اس طرح خوفناک تعاون کے بارے میں انکوائری کا مطالبہ کریں گی جس سے خدشہ ہے کہ حساس اور دوہری استعمال کی ٹیکنالوجیز کے ارد گرد پابندیوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

"ڈیلی ٹیلی گراف" کے مطابق برطانیہ اور ایران کے درمیان اہم مشترکہ تحقیق کے حوالے سے جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ امپیریل کالج لندن کے محقق احمد نجران خیرآبادی اور شاہرود یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور فردوسی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک مشترکہ تحقیق کی جس میں ڈرونز کو چلانے کے لیے استعمال ہونے والے انجنوں کی جدید کاری کا تجزیہ کیا گیا۔ ان ڈرونز میں "ھیسا شاہد 136" بھی شامل ہے۔ یہ وہی ڈرون ہے جو روس اس وقت یوکرین پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے۔ برطانوی ایرانی منصوبوں کو ایران کی سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی وزارت کی حمایت حاصل تھی۔ اسی طرح ان منصوبوں کو ایرانی وزارت کے سابق وزیر کامران دانشجو اور موجودہ نائب وزیر محمد نوری کی حمایت بھی حاصل تھی۔ یہ دونوں ایرانی افراد برطانوی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق برطانوی یونیورسٹیوں میں ایران کو فائدہ دینے والی ریسرچ کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب برطانوی حکومت پر پاسداران انقلاب پر پابندی عائد کرنے کے لیے دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ پاسداران انقلاب ہی ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر ایران کے ڈرون اور میزائلوں کو کنٹرول کرتی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی نے اخبار کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ کرین فیلڈ یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا کہ ایک بڑھتے ہوئے پیچیدہ عالمی آپریٹنگ ماحول میں کرین فیلڈ یونیورسٹی بین الاقوامی تعاون اور اپنی تحقیق کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور مضبوط نقطہ نظر اپناتی ہے۔

ہم تحقیقی سرگرمیوں کو مکمل طور پر یقینی بنانے کے لیے مسلسل بنیادوں پر اپنی سیکیورٹی پالیسیوں اور عمل کا جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ اپنی سرگرمیوں میں قانونی رہنما خطوط اور ذمہ داریوں کی تعمیل کریں۔

امپیریل کالج لندن کے ایک ترجمان نے کہا کہ تمام امپیریل تحقیق شاہی ضابطہ اخلاق کے تحت چلتی ہے اور ہمارے پاس برطانیہ کی قومی سلامتی کی سب سے اہم ذمہ داری کی مناسبت سے جائزے کے لیے مضبوط پالیسیاں موجود ہیں۔ گلاسگو یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیمیں ماہرین تعلیم، اداروں اور عالمی شعبوں کی ایک وسیع رینج سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ دوسری طرف برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم اس طرح کے تعاون کو قبول نہیں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں