7 ہزار سال قدیم الفاظ جو مصری آج بھی استعمال کرتے ہیں

"حاتي" ، "ميح" ، "ترالالي" ، "كُخة" اور دیگر اصطلاحات فرعونوں کے دور میں استعمال ہوتی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں "غتت" ، "ميح" ، "ترالالي" اور اس جیسے دیگر الفاظ روز مرہ کی زبان میں بولے جاتے ہیں۔ یہ وہ اصطلاحات ہیں جو روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان الفاظ کے حوالے سے خاص بات یہ ہے کہ یہ اصل میں فرعونی دور کے الفاظ ہیں۔ یہ وہ مترادفات ہیں جو قدیم مصری بھی بولتے تھے۔

یہ الفاظ اب 7000 سالوں سے استعمال ہو رہے ہیں اور یہ مصری اور عربی الفاظ کے ساتھ مل گئے ہیں ۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ صرف چند الفاظ نہیں ہیں بلکہ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

مصریوں کی زبان اور روز مرہ کی گفتگو میں استعمال ہونے والے ان الفاظ کے متعلق مصر میں ثقافت کی سپریم کونسل کے رکن اور نوادرات کے ماہر ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کی۔ اانہوں نے کہا کہ قدیم مصری زبان کی لغت اب تک استعمال ہو رہی ہے۔

قدیم مصری زبان
قدیم مصری زبان

ڈاکٹر عبد الرحیم نے بتایا کہ لفظ "حاتی" کا مطلب ہے گوشت بیچنے والا اور یہ فرعونی لفظ "حاتی حری " سے ماخوذ ہے۔ جس کا مطلب ہے جسم کا نچلا حصہ یعنی مویشیوں کی ٹانگ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں لفظ "نونو" بھی زیر استعمال ہے جس کا مطلب چھوٹا بچہ ہے۔ اسی طرح لفظ "مکحکح" کا مطلب بوڑھا اور عمر رسیدہ آدمی ہے۔ لفظ "میح" کے معنی فارغ ہے اور "کخہ" کا معنی گندگی کا ہے۔ یہ سب الفاظ فرعونی دور کے الفاظ سے ہی ماخوذ ہیں۔

مصری ماہر نے مزید بتایا کہ لفظ "بطح" بھی "بتح" سے ماخوذ ہے جو فرعونی لفظ ہے جس کا مطلب سر پر مارنا ہے۔ اور "بعبع" کا لفظ بچوں کو ڈرانے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کا معنی ایک خیالی جن ہے۔ "خم" کا مطلب چال اور فریب ہے اور "یاما" کا مطلب بہت کچھ ہے۔ "ھوسا" کا مطلب ہے شاور اور شور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "تاتا تاتا" کا مطلب ہے قدم بہ قدم اور یہ ان بچوں کے لیے کہا جاتا تھا جو بھاگنا اور چلنا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح "بح" کا مطلب ہے ختم کیا جانا۔ ایک لفظ "ترالالی" بھی بولا جاتا ہے جس کا تعلق فرعونی دور سے ہے اور اس کا معنی کم عقل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ریحان نے مزید بتایا کہ فرعونی تہذیب کا ذخیرہ مصر میں کچھ مشہور کھانوں میں بھی اب تک برقرار ہے۔ جیسا کہ "البصارہ" یعنی پکی ہوئی پھلیاں ہیں بالائی مصر میں دیہی علاقوں میں سورج کی روٹی کے لیے "بتاو" کا لفظ مستعمل ہوتا ہے۔ "الخبز المرحرح"، اسی طرح "فسیخ" اور "ملوحہ" اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کے نام وہ ہیں جو ہمارے ہاں بہت بولے جاتے ہیں اور ان کی اصل بھی فرعونی دور سے جا ملتی ہے۔

مصری ماہر ڈاکٹر ریحان نے کہا کہ ان الفاظ کے حوالے سے کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا اس طرح کی تمام چیزوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے اور ان کو خالص مصری ورثے کے طور پر محفوظ کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں