تنازعات میں سیاسی کیریئر گزارنے والے سابق اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی گزر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسکینڈلز کے لیے شہرت رکھنے والے اٹلی کے سابق وزیر اعظم برلسکونی 86 سال کی عمر میں چل بسے۔ مالی اور جنسی اسکیڈلز کے باعث انھیں اٹلی کا ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہا جاتا تھا۔

ارب پتی میڈیا ٹائیکون کو جمعہ کو میلان کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ ان کے معاونین نے بتایا کہ آنجہانی سابق وزیر اعظم کو لیوکیمیا سے منسلک پہلے سے طے شدہ طبی معائنے کےلیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی کے 1994 سے 1995، پھر 2001 سے 2006 اور بعد میں 2008 سے 2011 تک وزیر اعظم رہنے والے برلسکونی، ایک میڈیا ٹائیکون اور معروف بلڈر کے طور پر بھی مشہور تھے۔

بے پناہ دولت اور طاقت رکھنے والے برلسکونی کی زندگی کا شاید ہی کوئی لمحہ جب کسی اسکینڈل میں ان کا نام نہ آیا ہو۔

2011 میں ان کے عہدے سے سبکدوشی اور پھر سیاست سے باہر ہونے کی وجہ بھی ایک 17 سالہ مصری جسم فروش لڑکی سے جنسی تعلقات رکھنا بنی تھی۔

سیاسی عروج کے دور میں بھی میں اُن پر طاقت کے غلط استعمال، مالی فراڈ اور فحش پارٹیوں کے 20 سے زائد مقدمات درج تھے۔ ان کے نجی ولاز کی شہرت ایک جنسی عیاش گاہ کے طور پر رہی۔ جہاں ہر وقت عیش و عشرت کا سامان موجود رہتا۔

وہ اپنے مالی اور جنسی اسکینڈلز کے باعث ہمیشہ سرخیوں میں رہتے تھے۔ ان کی ذاتی زندگی کی طرح سیاسی سفر بھی تنازعات سے بھرا تھا۔ ان اسکینڈلز اور تنازعات کے باعث برلسکونی کا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اکثر موازنہ کیا جاتا تھا۔

برلسکونی نے 70 اور 80 کی دہائی میں میڈیا کی سلطنت بنائی۔ اس میں ایک پبلشنگ ہاؤس اور مقبول کیبل ٹی وی نیٹ ورک، میڈیا سیٹ شامل تھا جو جلد شہرت اور بزنس کے اعتبار سے اٹلی کے سرکاری ٹیلی ویژن کا سب سے بڑا حریف بن گیا۔

اٹلی کے سابق وزیراعظم کی 9 جون کو طبیعت بگڑ گئی تھی جس پر انھیں اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج آج خالق حقیقی سے جا ملے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں