مستقبل کی تشکیل کے لیے سعودی عرب کے شراکت دار ہیں: آسٹریلوی نائب وزیرخارجہ

آسٹریلیا کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے "العربیہ" کو بتایا کہ سعودی عرب خطے میں ہمارا دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، دونوں ملکوں کی دو طرفہ تجارت جس کی مالیت 3.3 بلین ڈالر ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

آسٹریلیا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مضبوط تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور مذہبی رشتوں پر بھی مبنی ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ملک جی 20 کے رکن بھی ہیں۔

دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات کے بارے میں "العربیہ" نے آسٹریلوی وزیر مملکت برائے خارجہ امور ٹم واٹس سے بات چیت کی جو ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔ اس انٹرویو میں دونوں ممالک کے درمیان معیشت کے مستقبل کے بارے میں بات کی گئی ہے۔

العربیہ : دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم کتنا ہے؟

آسٹریلوی وزیر خارجہ: سعودی عرب خطے میں ہمارا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
اشیا اور خدمات میں دو طرفہ تجارت کی مالیت 3.3 بلین آسٹریلوی ڈالر (برائے مالی سال 2021-2022) ہے۔

سعودی عرب کی آسٹریلیا میں بنیادی طور پر زراعت، انفراسٹرکچر اور رئیل اسٹیٹ میں 4 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایه کاری ہے۔
آسٹریلوی کمپنیوں نے سعودی عرب میں 3 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔
آسٹریلیا سعودی سرمایہ کاروں کو آسٹریلیا میں مستحکم اقتصادی اور گورننس ڈھانچے کے حفاظتی جال کے ذریعے اپنے کاروباروں کو بڑھانے اور متنوع بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم انفراسٹرکچر کے منصوبوں اور قابل تجدید توانائی سمیت دیگر شعبوں میں مزید سعودی سرمایہ کاری کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔

محفوظ اور قابل بھروسہ خوراک اور زرعی اجناس فراہم کنندہ کے طور پر آسٹریلیا کا جاری کردار جو سعودی مملکت کے غذائی تحفظ کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے، اور آسٹریلیا کی کچھ عالمی معیار کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم سعودی طلباء کے ساتھ قریبی اور بڑھتے ہوئے تعلیمی روابط ہمارے کاروباری تعلقات کے دو بنیادی ستون ہیں۔

مجھے آسٹریلوی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل طلبہ کو سعودی عرب میں شاندار کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔

العربیہ : کیا سعودی عرب میں مستقبل کے منصوبے ہوں گے؟

آسٹریلوی وزیر خارجہ: " تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، طبی تحقیق، قابل تجدید توانائی، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور تعمیرات میں ہماری مہارت کے پیش نظر آسٹریلوی کمپنیاں سعودی عرب میں اصلاحات کی حمایت کے لیے اچھی پوزیشن میں ہیں۔

آسٹریلیا سعودی معیشت کو ترقی دینے اور متنوع بنانے میں سعودی عرب کی دلچسپی کو تسلیم کرتا ہے، ان میں عالمی معیار کے مطابق کان کنی کے شعبے کو تیار کرنا بھی شامل ہے۔

آسٹریلیا میں کان کنی اور قدرتی وسائل کی صنعت تقریباً 200 سال کے تجربے پر قائم ہے، یہی وجہ آسٹریلوی کان کنی کمپنیوں کو سعودی عرب کے اس شعبے میں قدرتی شراکت دار بناتی ہے۔

العربیہ : سعودی عرب کے ایکسپو 2030 ریاض بولی جیتنے کی تقریب میں آسٹریلیا کی شرکت کے بارے میں کیا خیال ہے؟

آسٹریلوی وزیر خارجہ: عالمی میلے میزبان ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی توجہ دلاتے ہیں اور حال کو دکھانے اور مستقبل کی پیشین گوئی کرنے کے لیے عالمی برادری کو اکٹھا کر سکتے ہیں۔

آسٹریلیا نے اپنی پہلی ایکسپو 1880 میں میرے آبائی شہر میلبورن میں منعقد کی تھی اور آخری ایکسپو 1988 میں برسبین میں منعقد ہوئی تھی۔

عالمی نمائش کی میزبانی میزبان ممالک کے لیے ترقی اور دیگر مواقع فراہم کرتی ہے اور اپنے شہریوں کو بھی فوائد فراہم کر سکتی ہے۔

العربیہ : آسٹریلیا میں سعودی سکالرشپ طلباء ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ کیا اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہوئی ہے؟


آسٹریلوی وزیر خارجہ :دنیا کی ٹاپ 50 یونیورسٹیوں میں سے پانچ آسٹریلیا میں ہیں۔ جو صرف 26 ملین آبادی والے ملک کے لیے ایک متاثر کن عدد ہے۔ آسٹریلیا میں زیر تعلیم بین الاقوامی طلباء نہ صرف عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ دنیا کے بہترین کثیر الثقافتی معاشرے سے بھی مستفید ہوتے ہیں۔

آسٹریلیا کی ہزاروں سعودی طلباء کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہ طلباء ہماری یونیورسٹیوں کی طرف سے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، آسٹریلیا کے کثیر الثقافتی معاشرے میں قابل قدر شرکت کرتے ہیں اور موجودہ کمیونٹی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد کرتے ہیں۔

میں اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران آسٹریلوی یونیورسٹیوں کے سابق طلباء سے رابطہ قائم کرنے کے لیے پر امید ہوں، اور میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آسٹریلیا میں ان کے تجربات نے سعودی مملکت میں ان کے کیریئر اور تجربات کو کس طرح تشکیل دیا ہے۔

العربیہ : سوڈان کے بحران سے بہت سے ممالک متاثر ہوئے ہیں- کیا آپ آسٹریلیا کے تجربے اور اس تنازعے پر اپنے موقف کے بارے میں بات کر سکتے ہیں؟

آسٹریلوی وزیر خارجہ : میرا سعودی عرب کے دورے کا ایک مقصد سوڈان میں جاری تنازعہ کے سلسلے میں، آسٹریلیا کی جانب سے مملکت سعودی عرب کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنا بھی ہے۔
ان میں جدہ کے راستے بہت سے آسٹریلوی اور دیگر ملکوں کے شہریوں کے محفوظ انخلاء میں مدد کرنا بھی شامل ہے۔

میں جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر رسائی کے لیے سوڈانی دھڑوں کے درمیان ثالثی کرنے میں مملکت سعودی عرب کے کردار کو تسلیم کرتا ہوں، اور میں اس عمل میں ان کے کردار کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آسٹریلیا سوڈان میں جانی نقصان اور تباہی پر گہری تشویش میں مبتلا ہے، ہم تمام فریقین سے دشمنی کے مستقل خاتمے پر متفق ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سوڈان کے عوام کے لیے مذاکراتی حل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

ہم تنازعہ کے تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور صحت اور انسانی ہمدردی کے کارکنوں سمیت شہریوں کی حفاظت کریں۔

موجودہ تنازعہ تمام آسٹریلوی باشندوں اور خاص طور پر ہماری سوڈانی کمیونٹی کے لیے بہت تشویشناک ہے۔

آسٹریلیا ایک ایسا ملک ہے جو اپنے کثیر الثقافتی معاشرے پر فخر کرتا ہے اور تارکین وطن کو خوش آمدید کہنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ سوڈان میں پیدا ہونے والے 16,000 سے زیادہ لوگ آسٹریلیا میں ہجرت کر چکے ہیں اور اس وقت آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔

اس تنازعے نے سوڈان میں جاری انسانی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے، جو پہلے ہی بڑی تعداد میں بے گھر ہونے والے لوگوں اور غذائی قلت کا شکار تھا۔

آسٹریلوی حکومت نے سوڈان میں تنازعہ کے بعد ابتدائی طور پر 6 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کی ہے ، جس میں بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کی امداد کے پروگرام کے لیے 5 ملین ڈالر، اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے لیے طبی سامان سمیت فوری امداد کے لیے 1 ملین ڈالر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں