پیشاب کرنے پر مصری باپ نے 3 سالہ بچے کو تشدد کر کے مار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری میڈیا نے ایک 3 سالہ بچے کی موت کی اطلاع دی ہے۔ اسے اس کے والد نے مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس سفاکیت کی وجہ یہ تھی کہ اس تین سالہ معصوم بیٹے کا غیر ارادی طور پر پیشاب نکل گیا تھا۔

الجیزہ کے سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کی پولیس کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ والد کے دل کی سختی اپنے چھوٹے بچے کی زندگی کے آخری باب کی گواہ تھی۔ اسی وجہ سے اس کی موت المناک طریقے سے ہوئی۔

کہانی اس وقت شروع ہوئی جب الجیزہ (گیزہ) میں محکمہ فوجداری تحقیقات کو اطلاع ملی کہ العیاط سنٹرل ہسپتال کو ایک بچے کی لاش ملی ہے جس کے چہرے اور جسم پر بڑے زخموں کے نشانات ہیں اور اس کی موت مجرمانہ طور پر ہونے کا شبہ ہے۔

سراغ رساں بچے کے اہل خانہ کے بیانات سننے اور واقعے کے حالات جاننے کے لیے پڑوسیوں سے بات چیت کرنے گئے۔ تحقیقی کوششوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ واقعے کے پیچھے بچے کے والد کا ہاتھ ہے اور اس نے تشدد کرکے اپنے بچے کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔

بچے کی لاش کے ابتدائی معائنے میں چہرے پر زخموں کے نشانات اور جسم کے الگ الگ حصوں پر جلنے کے نشانات سامنے آئے۔ پتہ چلا کہ بچے کے بائیں بازو پر "کاٹنے" کے نشانات بھی تھے۔ اس کے کولہوں پر بھی جلنے کے نشان تھے۔ اس کی والدہ نے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ جوڑے کی علیحدگی کے بعد بچہ اپنے والد کے پاس رہ رہا تھا۔

ماں نے بتایا کہ اس نے "4 جون سے بچے کو والد کے حوالے کر دیا تھا اور اسے شبہ ہے کہ والد نے اسے قتل کیا ہے۔ تاہموالد نے اس واقعے کے علم سے انکار کیا۔ پھر اس نے جلد ہی بچے کو جلانے، مارنے پیٹنے اور اس کے دماغ کو ایک سے زیادہ بار زمین پر مارنے کا اعتراف کرلیا۔ باپ نے بتایا کہ اس نے بچے کے پیشاب کرنے اور مسلسل رونے کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ سفاک باپ نے کہا بچے کو پیٹتے ہوئے میرا ارادہ اس کو قتل کردینا نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں