یوکرینی جوہری پلانٹ کے قریب پانی کی سطح تبدیل ہونے پر آئی اے ای اے کو تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی [ائی اے ای اے] کا کہنا ہے کہ کاخوفکا ڈیم کی تباہی کے نتیجے میں ژاپوریزیا جوہری پلانٹ میں پانی کی سطح تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے ادارے کو جوہری پلانٹ تک رسائی دی جائے۔

اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں آئی اے ای اے نے بتایا کہ کاخوفکا ڈیم کی تباہی کے نتیجے میں جوہری پلانٹ کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے پانی کے بہائو کے ڈیٹا میں گڑبڑ دیکھنے میں آئی ہے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کا کہنا تھا کہ جوہری پلانٹ میں پانی کے داخلے کے مقام پر گذشتہ روز پانی کی سطح قدرے مستحکم رہی مگر "ڈیم کے ذخیرے میں پانی کی مقدار بتدریج گر رہی ہے۔"

گروسی کا کہنا تھا کہ "پانی کی سطح دو میٹر تک گر گئی ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔ پانی کی بلند سطح جوہری پلانٹ کے واٹر پمپ کے آپریشن جاری رکھنے کے لئے بہت اہم ہے۔"

گذشتہ ہفتے کے دوران کاخوفکا ہائیڈرو پاور ڈیم کی تباہی کے سبب ڈیم کے کنارے بسے کئی قصبے زیر آب گئے اور ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔

روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے آغاز ہی میں ڈیم اور جوہری پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھا اور یہ تنصیبات اب تک روسی فوج کے کنڑول میں ہیں۔

روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر جنوبی یوکرین میں واقع اس بڑے ڈیم کی تباہی کا الزام عاید کیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے ڈیم کی تباہی کو روس کا 'جرم' قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی اداروں سے ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’روس کو نوفا کاخوفکا ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ کے ڈھانچے کو دھماکے سے اڑانے کی مجرمانہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے‘‘۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ڈیم کی تباہی کو’’یوکرین کی دانستہ تخریب کاری‘‘ قرار دیا ہے جس سے خطے کے ہزاروں مکین متاثر ہوں گے اور اس سے سنگین ماحولیاتی مضمرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں