امریکی ایلچی کی یمن امن مذاکرات کے لیے سعودی عرب آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدر جو بائیڈن کے خصوصی ایلچی برائے یمن جنگ زدہ ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے بارے میں بات چیت کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'ٹم لینڈرکنگ نے 12 جون کو سعودی عرب کا دورہ کیا تاکہ جنگ بندی کے فوائد کو مزید وسعت دینے اور یمن میں جامع امن عمل شروع کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

لینڈرکنگ یمنی اور سعودی حکام کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی مربوط کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔

امریکا نے یمن میں برسوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر اہم سفارتی کوششیں کی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے مدمقابل کھڑا ہونے میں مدد کی ہے۔

گذشتہ سال اقوام متحدہ کی حمایت سے جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا اور حوثیوں کی جانب سے تیسری بار جنگ بندی سے انکار سے قبل اس میں دو بار توسیع کی گئی تھی۔

حالیہ اطلاعات سے پتاچلتا ہے کہ حوثیوں نے ایک بار پھر ملک بھر میں انسانی امداد اور دیگر ضروری سامان کی آزادانہ ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دی ہیں۔

محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا یمن میں جاری تنازع کے جلدحل کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔لینڈرکنگ گذشتہ ہفتے وزیر خارجہ انٹونی بلینکن کی خطے میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا بھی جائزہ لیں گے جس میں یمن کے ساحل کے قریب خستہ حال سیف ٹینکر سے تیل اتارنے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔اس ٹینکر میں مبینہ طور پرگیارہ لاکھ چالیس ہزاربیرل تیل لدا ہوا ہے اور اس کے پھٹنے کا خطرہ ہے۔اس سال کے اوائل میں اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ ایک بیرونی ٹینکر کے آنے اوراس میں تیل منتقل کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں