دور سے کام کے خاتمہ کے بعد بھارتی خواتین سب سے بڑی آئی ٹی فرم چھوڑنے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت کی سب سے بڑی سافٹ ویئر فرم میں دور سے کام کا خاتمہ کیا گیا تو یہ غیر ارادی طور پر بہت سی خواتین کے نوکری چھوڑنے کا سبب بن گیا۔ دور رہ کر کام کرنے والی ان خواتین نے دفتر واپس نہ آنے کا فیصلہ کرلیا۔

ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز لمیٹڈ نے خواتین کی کمی پر اس وقت زیادہ توجہ دی تھی جب اس نے کرونا وبا کے بعد ملازمین کو دوبارہ آفس میں آکر کام کرنے کے لیے واپس بلایا۔ یہ بات اس آئی ٹی کمپنی کے لیے غیر معمولی تھی کہ خواتین کی تعداد کم ہوگئی تھی۔

ٹی سی ایس کے چیف ہیومن ریسورسز آفیسر ملند لکڈ نے گزشتہ ہفتے کمپنی کی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ میں سوچوں گا کہ وبائی امراض کے دوران گھر سے کام کرنا کچھ خواتین کے لیے گھریلو انتظامات کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے اور انہیں دفتر واپس آنے سے روک رہا ہے۔ یہ صنفی تنوع کو فروغ دینے کی ہماری کوششوں کو ایک دھچکا ہے تاہم اب اپنے ہاں خواتین کی تعداد کو بڑھا رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں دور دراز سے کام کرنے کی سہولت اور لچک نے کمپنیوں کو ٹیلنٹ کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور برقرار رکھنے میں مدد کی ہے۔ خاص طور پر خواتین کو کمپنیوں میں کام کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ کیونکہ بہت سے خواتین کو دفتر کے ہائبرڈ ماحول کی نسبت گھر کی ڈیوٹی کو آگے بڑھانا آسان معلوم ہوا۔

اب آفس میں کام کی شرط ان خواتین کو افرادی قوت سے باہر جانے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ صورت حال افرادی قوت میں پہلے سے خواتین کی کمی کے تناسب کو مزید خراب کر رہی ہے۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں لیبر فورس میں خواتین کی شرکت 24 فیصد ہے۔ چین میں یہ شرح 61 فیصد ہے۔

ٹی سی ایس کے چیف ہیومن ریسورسز آفیسر ملند لکڈ نے مزید بتایا کہ ہماری کمپنی میں خواتین ملازمین لگ بھگ 36 فیصد ہیں۔ کمپنی اب ان کی نمائندگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں