روس اور یوکرین

روس میں مارشل لا کے نفاذ کی کوئی ضرورت نہیں: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ روس کو دشمن کے ایجنٹوں سے لڑنے اور اپنی سرزمین کے اندر حملوں کے خلاف اپنے دفاع کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے لیکن یوکرین کی مثال پر عمل کرنے اور مارشل لا کے نفاذ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

صدرپوتین روس کے جنگی وقائع نگاروں اور فوجی بلاگروں کے ایک نشری اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’ملک میں کسی قسم کی خصوصی حکومت یا مارشل لا نافذ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔آج ایسی چیز کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

صدر پوتین نے بتایا کہ یوکرین نے چار جون کو بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی شروع کی تھی لیکن اس کو کسی بھی علاقے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔انھوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے انسانی نقصانات روس کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرین اپنے 160 سے زیادہ ٹینک اور بیرون ملک سے مہیا کردہ گاڑیوں کا 25 سے 30 فی صد کھوچکا ہے جبکہ روس کے 54 ٹینک تباہ ہوئے ہیں۔

صدر پوتین نے یہ بھی کہا کہ یوکرین نے جان بوجھ کر امریکا کے مہیا کردہ ہیمارس راکٹوں سے کاخوفکا ڈیم کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام نے کیف کی جوابی کارروائی کی کوششوں میں بھی رکاوٹ ڈالی ہے۔

صدر پوتین نے کہا کہ ’’روس کے 24 فروری 2022 کو یوکرین میں شروع کیے گئے 'خصوصی فوجی آپریشن' کے اہداف صورت حال کے ساتھ بدل سکتے ہیں لیکن ان کا بنیادی کردار تبدیل نہیں ہوگا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں