سوڈان میں امریکا اور سعودی عرب کی لڑائی روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں رہیں :محکمہ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے عرب، افریقی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے بعد کہا ہے کہ وہ اگلے چند دنوں میں آگے بڑھنے کے ایک نئے راستے کا اعلان کرنے کی امید کرتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے جدہ میں امریکا اور سعودی عرب کی حمایت سے مذاکرات کا فائدہ نہ اٹھانے پر سوڈان کی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایک عہدہ دار نے صحافیوں کو بتایا کہ متحارب فریق واضح طور پر اس کاوش سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں جو ہم ان کے لیے کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ اس طرح کامیاب نہیں ہو رہا جس طرح انھوں نے اس مرحلہ وار عمل کے حوالے سے اتفاق کیا تھا تاکہ جنگ کے مستقل خاتمے تک پہنچا جا سکے‘‘۔

سوڈان کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان کئی ہفتوں سے جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں فریق ملک کے اہم علاقوں پرکنٹرول کے لیے ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما ہیں۔

جدہ مذاکرات کے موقع پرمحکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے متحارب فورسز کے درمیان لڑائی کی روکنے کی کوششیں، یہاں تک کہ مختصر مدت کے لیے بھی، اب تک بے کار ثابت ہوئی ہیں۔ عرب، افریقی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے بعد، وہ اگلے چند دنوں میں آگے بڑھنے کے لیے ایک نئے راستے کا اعلان کرنے کی امید کرتے ہیں۔

سوڈان میں لڑائی شروع ہونے کے فوراً بعد، امریکا اور سعودی عرب نے جنگ بندی پر بات چیت کے لیے جدہ میں متحارب فریقوں کی میزبانی کی تاکہ شہریوں کے لیے انتہائی ضروری انسانی امداد آزادانہ طور پرمہیّا کرنے کی اجازت دی جا سکے۔

لیکن دونوں متحارب فریق جنگ بندی کے معاہدوں کی شرائط کی مسلسل خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جدہ مذاکرات معطل ہو گئے حالانکہ الریاض اور واشنگٹن نے سوڈان کی متحارب فورسز کے کچھ شرائط پر پورا اترنے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں