زلزلے میں دونوں ٹانگوں سے محروم ہونے والے ترک نوجوان کی پیراکی

عبدالرحمٰن آیدین کئی گھنٹوں تک ہطائی میں ملبے کے نیچے دبے رہے جس کی وجہ سے ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک ضائع ہو گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کہتے ہیں کہ "زندگی ہے تو مایوسی نہیں ہے ... اور مایوسی ہے تو زندگی نہیں ہے۔"

یہ بات ترکیہ کے شہر ہتائی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ثابت کر دکھائی ہے جو کہ گذشتہ فروری میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے متاثر ہونے والے بڑے شہروں میں سے ایک تھا۔

اس آفت کے نتیجے میں ترکیہ اور شام میں تقریباً 55 ہزار افراد ملبے تلے دب کر ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے. انہی میں بعض عبد الرحمن جیسے نوجوان بھی ہیں جو تاحیات معذوری کا شکار ہو گئے۔

عبدالرحمن آیدین 6 فروری کو ترکیہ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ملبے کے نیچے دبے رہے، جس کی وجہ سے ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک ضائع ہو گئیں۔
تاہم، انہوں نے اس معذوری کو اپنے شوق کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا اور ایک چیلنج نے انہیں حادثے کے مہینوں بعد، اپنے پسندیدہ کھیل، جو کہ غوطہ خوری ہے، میں واپس آنے پر آمادہ کیا۔

عبدالرحمن ایک پیشہ ور ٹیم کے ساتھ ڈائیونگ پر واپس سمندر میں آئے۔

ترک اخبار ینی شفق کی جانب سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کی گئی تصاویر میں 18 سالہ عبدالرحمن آیدین کو پیشہ ور غوطہ خوروں کے ساتھ پانی کے اندر دکھایا گیا ہے۔

6 فروری کو جنوب مشرقی ترکیہ میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا جس سے 11 صوبے اور شام سمیت پڑوسی ممالک کے کئی علاقے لرز اٹھے۔

جہاں ترکیہ اور شام میں ہزاروں قیمتی جانیں اس زلزلے کی نذر ہوگئیں وہیں اس تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں 140 ہزار عمارتیں منہدم ہوگئیں، ان کے مالکان خیموں اور پناہ گاہوں میں رہنے یا دوسرے شہروں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں