سعودی عرب کے سینما میں فلم ’اسپائیڈر مین: ایکراس دا اسپائیڈر ورس‘ ریلیز نہیں ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں نئی فلم 'اسپائڈر مین: ایکراس دا اسپائڈر ورس‘سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش نہیں کی جائے گی۔

جنرل کمیشن برائے آڈیو ویژول میڈیا کے زیر انتظام سعودی سنیما نے منگل کے روز بتایا کہ یہ نئی فلم مملکت میں اسکرینوں پر نہیں دکھائی جائے گی۔

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ فلم ’’مواد کے کنٹرول کے اصول کے منافی ہے اور جب تک فلم کے بعض مناظر کے کچھ حصوں میں ترمیم نہیں کی جاتی، یہ مقامی طور پر سینما گھروں میں نہیں چلائی جائے گی‘‘۔

اس نے مزید کہا ہے’’سینما گھروں میں دکھائے جانے والے مواد کی حفاظت اور ناظرین کے تعلق سے اپنی ذمہ داری کے پیش نظر ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کسی بھی ایسی فلم کی اجازت یا لائسنس نہیں دیں گے جو میڈیا سسٹم میں مواد کے کنٹرول سے متصادم ہو اور پروڈکشن کمپنیاں اس سسٹم کے نفاذ کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کا عہد کریں اور نہ مطلوبہ ترامیم کریں۔

دریں اثنا،اس فلم کو دیکھنے کے ٹکٹ اب مقامی سینما گھروں میں قبل از وقت بُک یا خرید کرنے کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔

ایمپائر انٹرٹینمنٹ ، جومشرق اوسط میں سونی پکچرز کے خصوصی تھیٹر ڈسٹری بیوشن رائٹس کی مالک ہے، سے فلم کی ریلیز کی صورت حال پر تبصرہ کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن اس نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ایمپائر کی ویب سائٹ پر شو کو اب بھی 22 جون کی ریلیز کی تاریخ کے ساتھ ’جلد آرہی ہے‘ کے تحت نشان زد کیا گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور کینیڈین سینما گھروں میں 'اسپائیڈر مین: ایکراس دا اسپائڈر ورس' نے بارہ کروڑ ڈالر سے زیادہ کی کمائی کی ہے اور یہ رقم 2018 کی اینیمیٹڈ اوریجنل فلم کے آغاز سے کہیں زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ 2022ء کے اوائل میں متحدہ عرب امارات اور دیگر جی سی سی ممالک نے والٹ ڈزنی پکسر کی اینیمیٹڈ فیچر فلم 'لائٹ ایئر' کی سینما گھروں میں نمائش پر پابندی عاید کردی تھی کیونکہ اس میں ہم جنس تعلقات کے کرداروں کو دکھایا گیا تھا۔

بہت سے مسلم اکثریتی ممالک میں ہم جنس پرستی پر مبنی تعلقات کو جرم قرار دیا جاتا ہے، اور ماضی میں ان ممالک میں ریگولیٹرز کی طرف سے اس طرح کے تعلقات پر مبنی فلموں پر پابندی عاید کی گئی ہے، جبکہ دیگر غیر اخلاقی یا منشیات کے غیر قانونی استعمال سے متعلق حصوں کو بعض اوقات سینسر کردیا جاتا ہے۔

میڈیا ریگولیٹری آفس نے اعلان کیا ہے کہ اینیمیٹڈ فلم لائٹ ایئر، جو 16 جون کو ریلیز ہونے والی ہے، متحدہ عرب امارات کے تمام سینما گھروں میں عوامی نمائش کے لیے لائسنس یافتہ نہیں، کیونکہ اس نے ملک کے میڈیا مواد کے معیارکی خلاف ورزی کی ہے۔

اسی سال کے آخر میں بہت سے ممالک نے اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلیکس سے ایسے مواد کو سنسر کرنے یا ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا جو خلیجی ریاستوں کے مذہب اور ثقافت کے خلاف توہین آمیز سمجھا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں