کویت کا ترکیہ کے ساختہ لڑاکا ڈرونز خرید کرنے کے لیے 36 کروڑ70 لاکھ ڈالر کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کویت کی حکومت نے ترکیہ کی ڈرون کمپنی بیکر کے ساتھ 36کروڑ 70لاکھ ڈالر مالیت کا معاہدہ طے کیا ہے۔اس کے تحت وہ اپنی فوج کے لیے ٹی بی ٹو لڑاکا ڈرونز خریدارکرے گی۔

بیرکتر ٹی بی 2 نامی یہ بغیر پائلٹ ڈرون ہلکے پھلکے ہتھیار، لیزر گائیڈڈ بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک وقت میں 27 گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے۔ترک ڈرون ساز کمپنی کے مطابق یہ ایک 'ریکارڈ' ہے۔ یہ اس نے 2019 میں کویت میں ڈرون کا تجربہ کرتے ہوئے قائم کیا تھا۔

اس معاہدے کے اعلان کے بعد کویت ترکیہ سے ٹی بی 2 ڈرون خرید کرنے والا 28 واں ملک بن جائے گا۔واضح رہے کہ لیبیا، شام اور یوکرین جیسے جنگ زدہ علاقوں میں کامیابی کی وجہ سے ترکیہ کے ان ڈرونز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

کویتی فضائیہ کے آپریشنز چیف بریگیڈیئر جنرل فہد الدوسری نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ ڈرونز کا بیڑا بحریہ اور کوسٹ گارڈ کی مدد کے ساتھ ساتھ سمندری اور زمینی سرحدوں کی نگرانی بھی کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے:’’یہ ڈرونز تلاش اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد دینے کے علاوہ 'جاسوسی اور اہدافی مشن' بھی انجام دے سکتے ہیں‘‘۔

بیکر اور کویتی حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے ڈرون خریدکیے گئے ہیں یا انھیں کب پہنچایا جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق اس قسم کے ایک ڈرون کی قیمت 20 لاکھ ڈالر سے کم ہے اور یہ بغیر پائیلٹ طیارے بیکر ڈیفنس کمپنی تیار کرتی ہے جو ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے داماد سلجوق بیرکتر کے خاندان کی ملکیتی بتائی جاتی ہے۔خود سلجوق اس کمپنی کے چیف ٹیکنیکل آفیسر ہیں۔

ٹی بی 2 ڈرون نے لیبیا کے مسلح تنازع میں توازن کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اس کے علاوہ اس کو ترکیہ کے اتحادی آذربائیجان کو 2020 میں متنازع نگورنو قراباخ کے علاقے میں آرمینیا کی حمایت یافتہ افواج کے خلاف لڑائی میں فیصلہ کن مدد دینے کا سہرا دیا جاتا ہے۔

اس ڈرون نے یوکرین کو اپنے شہروں کا سخت دفاع کرنے کے قابل بھی بنایا ہے، یوکرینی فوج نے روسی افواج کے خلاف مؤثر حملے کیے ہیں۔اس کی کارکردگی نے مغرب کے بہت سے فوجی ماہرین کو حیران کردیا ہے اور کئی ایک ممالک نے اس بغیر پائلٹ طیارے کی خریداری میں دل چسپی کا اظہار کیا ہے۔

یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی ہے جس میں 'بیرکتر' کے نام سے ایک گانا شامل ہے۔اس میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور اسے یوکرین کے ریڈیو پر چلایا گیا ہے۔

یوکرین جنگ میں اس ڈرون کی عمدہ کارکردگی کے بعد لیتھوینیا میں ایک عوامی چندہ مہم برپا کی گئی تھی۔اس کے تحت عام شہریوں سے یوکرین کے لیے ٹی بی 2 خرید کرنے کے لیے قریباً 60 لاکھ یورو جمع کیے گئے ہیں۔

کویت کے سرکاری میڈیا کے مطابق ترکیہ اور کویت کی حکومتوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے ڈرون معاہدے میں ہتھیاروں کی ترسیل کے علاوہ برقی جنگی آلات (الیکٹرانک وارفیئر) اور موبائل گراؤنڈ کنٹرول کی تنصیبات بھی شامل ہیں اور یہ نیٹو کے معیارکے مطابق ہیں۔

کویت کو امریکا کا ایک اہم غیر نیٹو اتحادی سمجھا جاتا ہے۔اس کی 1990ء کے عشرے کے اوائل سے امریکا کے ساتھ قریبی فوجی شراکت داری قائم ہے۔ تب امریکا نے سابق عراقی صدر صدام حسین کے کویت پر حملے کے بعد عراقی فوجیوں کو بے دخل کرنے کے لیے 1991 کی خلیج جنگ کا آغاز کیا تھا۔ کویت میں تب سے امریکی فوج کا فارورڈ ہیڈکوارٹر ہے اور وہاں قریباً 13،500 امریکی فوجی تعینات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں