ارجنٹائن کی 1994 کے بم دھماکہ میں 4 لبنانیوں کو گرفتار کرنے کوشش جاری

عدالت نے انٹرپول وارنٹ حاصل کرنے کی منظوری دیدی، ارجنٹائن اور اسرائیل کو ’’حزب اللہ‘‘ پر شبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ارجنٹائن نے جمعرات کو چار لبنانی شہریوں کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے جن پر 18 جولائی

1994 میں بیونس آئرس میں ایک یہودی مرکز پر ہونے والے بم دھماکے میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ اس خوفناک حملے میں 85 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے میں بارودی مواد سے بھری وین عمارت سے ٹکرا گئی تھی۔

ایک جج نے پراسیکیوٹر کی انٹرپول وارنٹ حاصل کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چاروں افراد حزب اللہ کے کارکن یا آپریشنل ایجنٹ تھے۔ چاروں کے نام حسین منیر مزنر، علی حسین عبداللہ، فاروق عبدالحئی عمیری اور عبداللہ سلمان ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پیراگوئے برازیل یا بیروت میں مقیم ہیں۔

سلمان پر شبہ ہے کہ اس نے حملہ کرنے والے آپریشنل گروپ کی آمد اور روانگی میں مدد کی تھی۔ ارجنٹائن کے دارالحکومت میں یہودی مرکز پر حملہ ملکی تاریخ کا بدترین حملہ تھا۔ دو سال قبل ہونے والے ایک بم دھماکے میں اسرائیلی سفارت خانے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں 29 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

1994 کے حملے کے مرتکب کا اب تک انکشاف ہوا نہ ہی کسی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم ارجنٹائن اور اسرائیل کو شبہ ہے کہ یہ حملہ لبنانی "حزب اللہ" نے انجام دیا ہے۔

اسرائیل کے علاوہ یہودی آبادی والے ملکوں میں ارجنٹائن کا نمبر یہودی آبادی کے اعتبار سے چھٹا ہے۔ یہاں لگ بھگ 2 لاکھ 30 ہزار یہودی آباد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں