افغان مرکزی بینک کے گورنر کی چینی سفیر سے ملاقات، بینکنگ تعلقات پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغان مرکزی بینک کے لیے طالبان حکومت کے قائم مقام گورنر نے رواں ہفتے چین کے سفیر سے بینکاری تعلقات اور کاروبار پر بات چیت کی، بینک کے ترجمان نے جمعہ کو رائٹرز کو بتایا ہے۔

افغانستان کا بینکنگ نظام پابندیوں، منجمد مرکزی بینک کے اثاثوں سے لیکویڈیٹی میں کمی اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بین الاقوامی بینکوں کے ریگولیٹری خطرے کے خدشات نے بھی بڑی حد تک ملک کے رسمی بینکنگ سیکٹر کو عالمی مالیاتی نظام سے کاٹ دیا ہے۔

چین کے افغانستان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن 2021 میں طالبان کے ملک پر کنٹرول کے بعد سے اس نے کابل میں اپنا سفارت خانہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

بیجنگ نے حال ہی میں اقغانستان میں اقتصادی دلچسپی کا اشارہ دیا ہے، اور اگرچہ کچھ چینی کاروباری ایگزیکٹوز نے سیکورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے، چین نے کہا ہے کہ وہ یہاں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں، خاص طور پر کان کنی کے شعبے میں۔

بینک کے ترجمان حسیب اللہ نوری نے رائٹرز کو بتایا کہ "اس ملاقات میں معیشت، بینکنگ تعلقات، کاروبار اور کچھ متعلقہ موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا،" انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملاقات جمعرات کو کابل میں سفیر وانگ یو اور قائم مقام گورنر ملا ہدایت اللہ بدری کے درمیان ہوئی۔

چین کی وزارت خارجہ نے فی الحال اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔

ہدایت اللہ بدری ایک سینئر طالبان شخصیت ہیں جو مارچ میں قائم مقام وزیر خزانہ کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد مرکزی بینک کے قائم مقام سربراہ بنائے گئے تھے۔

وہ امارت اسلامیہ، جیسا کہ طالبان اپنی حکومت کا حوالہ دیتے ہیں کے اقتصادی کمیشن کے سربراہ تھے۔ طالبان حکام کے مطابق، افغانستان کی سابق مغربی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف 20 سالہ جدوجہد کے دوران بدری طالبان کے لیے فنڈ ریزنگ کرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں