العربیہ ایکسکلوسیو

امریکا بائیڈن کو پھر منتخب کرے گا، ٹرمپ کے حملوں کو نہیں سنتی: امریکی خاتون اول

مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو جو بائیڈن کی عمر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کیا حاصل کیا ہے، وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں، اور وہ امریکا کے لوگوں کے لیے کیا کرتے رہیں گے،" جل بائیڈن نے العربیہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

امریکی خاتون اول جل بائیڈن نے جمعرات کو ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ ان کے شوہر صدر جو بائیڈن نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ دوبارہ منتخب ہونے کے مستحق ہیں۔یہ امریکی عوام پر منحصر ہے کہ وہ بائیڈن کے ساتھ استحکام یا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انتشار اور افراتفری میں سے کیا منتخب کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’العربیہ‘‘ سے خصوصی بات چیت کے دوران کیا۔ یہ ان کا کسی بھی عرب میڈیا کے لیے پہلا انٹرویو ہے۔

جل بائیڈن، جو اس مہینے کے شروع میں 72 سال کے ہوئی ہیں، ایک ماں، دادی اور خاتون اول ہونے کے کرداروں کے ساتھ توازن قائم رکھتے ہوئے بطور استاد بھی اپنا کردار نبھا رہی ہیں۔ جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ میں ان میں سے کسی کو ترک نہیں کر سکتی۔ اور نہ ہی کسی ایک کو منتخب کر سکتی ہوں۔

صدر بائیڈن، نے ابتدائی طور پر خاتون اول کو بتایا کہ خاتون اول کے کردار کے ساتھ درس و تدریس سے وابستہ مشکل ہو سکتا ہے۔

"اب انہیں عادت ہو گئی ہے۔ کیونکہ، میں 38 سالوں سے پڑھا رہی ہوں، جو ایک طویل عرصہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں خوش رہوں، اور جب میں کلاس روم میں ہوتی ہوں تو میں سب سے زیادہ خوش ہوتی ہوں۔" خاتون اول نے العربیہ کو بتایا۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ کے ان کے خاندان پر حملوں کے حوالے سے امریکی خاتون اول نے اس انٹرویو میں یہ کہا کہ "وہ ان کی بات نہ سننے کی کوشش کرتی ہیں۔"

واضح رہے کہ ٹرمپ نے بائیڈن خاندان پر بدعنوان ہونے کا الزام لگایا ہے، جبکہ کیپیٹل ہل پر ریپبلکن قانون سازوں نے بین الاقوامی کاروباری اداروں کے ساتھ خاندان کے کام کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

ٹرمپ اور بائیڈن انتظامیہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ " وہ (دونوں) بہت مختلف انتظامیہ ہیں، بہت مختلف رہنما ہیں۔"اس ملک نے جو کچھ دیکھا اس سے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ پچھلی انتظامیہ افراتفری اور الجھنوں سے بھری ہوئی تھی۔"

جہاں تک بائیڈن انتظامیہ کا تعلق ہے، مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے امریکیوں کو مضبوط اور مستحکم قیادت فراہم کی۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ اسی لیے انہیں منتخب کیا گیا تھا۔ اور مجھے لگتا ہے کہ اسی وجہ سے انہوں نے انہیں دوبارہ منتخب کیا جائے گا۔"

جل بائیڈن اور ان کی صاحبزادی ایشلے بائیڈن یکم 2023 کو اردنی ولی عہد کی شادی کے موقع پرـ رائیٹرز
جل بائیڈن اور ان کی صاحبزادی ایشلے بائیڈن یکم 2023 کو اردنی ولی عہد کی شادی کے موقع پرـ رائیٹرز

اپنے شوہر اور موجودہ امریکی صدر کی عمر کے بارے میں ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اس انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ "آپ جانتے ہیں، جو کے پاس 40 سالہ شخص سے زیادہ توانائی ہے۔ آپ وہ سب دیکھیں جو انہوں نے پچھلے تین سالوں میں کیا ہے۔"

بائیڈن کے 1 ٹریلین ڈالر کے انفراسٹرکچر بل اور 1.9 ٹریلین ڈالر کے وبائی امدادی پیکیج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خاتون اول نے کہا کہ " ان کے پاس بہت سے ایسے پروگرام تھے جن سے امریکہ میں لوگوں کی بڑی تعداد کو فائدہ ہوا جیسے کہ انفراسٹرکچر پروگرام، اور کورونا وبا کے دوران مدد کے لیے امریکن ریسکیو پلان۔"

"بائیڈن نے بہت سی چیزوں میں مدد کی۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ لوگوں کو ان کی عمر کو دیکھنا چاہئے، انہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ انہوں نے کیا حاصل کیا ہے، وہ اب کیا کر رہے ہیں ، اور وہ امریکا کے لوگوں کے لئے کیا کرتے رہیں گے۔"

"اصل بات یہ کہ.. بائیڈن نے کر دکھایا"

خاتون اول، جِل بائیڈن نے کہا: "بائیڈن نے اپنی انتظامیہ میں جو کچھ کیا اس کی وجہ سے انہیں دوبارہ منتخب ہونے کا حق ہے، وہ اپنے عہدوں پر ثابت قدم ہے، ان کے پاس حکمت ہے۔موجودہ انتظامیہ میں، بائیڈن نے دونوں فریقوں، ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کو اکٹھا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "جو بائیڈن کو خارجہ پالیسی اور ملکی پالیسی کا بھی کافی تجربہ ہے کیونکہ وہ کئی سالوں سے حکومتوں میں ہیں۔"

"جو بائیڈن عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں، وہ تمام عالمی رہنماؤں کو جانتے ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ۔ بائیڈن نے اسے کر دکھایا ہے۔"

مشرق وسطی کا دورہ اور خاتون اول کا کردار

جل بائیڈن حال ہی میں ایک سفر سے واپس آئی ہیں جہاں انہوں نے مشرق وسطیٰ کے تین ممالک: اردن، مصر اور مراکش کا دورہ کیا۔

العربیہ کے نمائندے کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ وہ یہاں سے کیا پیغام لے کر جا رہی ہیں، خاتون اول نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ خطے کے لوگ امریکہ کے ساتھ تعلق محسوس کریں گے۔

مصر کی خاتون اول انتصار عمر امریکی خاتون اول  جل بائیڈن کا خیر مقدم کر رہی ہیں: سپلائیڈ
مصر کی خاتون اول انتصار عمر امریکی خاتون اول جل بائیڈن کا خیر مقدم کر رہی ہیں: سپلائیڈ

"مجھے امید ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لوگ امریکی اصولوں اور ہمارے اور عرب دنیا کے درمیان مشترک اقدار کو دیکھیں گے۔"

"یہ میرے شوہر کے لیے بہت اہم ہے، اور جب میں کہیں جاتی ہوں تو اسے بہت اہم سمجھتی ہوں کہ میں حکومت سے حکومت والا نہیں، بلکہ لوگوں سے لوگوں والا تعلق قائم کروں، "انہوں نے کہا۔

38 سال سے زیادہ عرصے سے ایک استاد ہونے کے ناطے، جل بائیڈن نے کہا کہ ان کے بیرون ملک دوروں کی ایک بڑی وجہ تعلیمی پروگراموں کو دیکھنا تھا۔

"مجھے ان کی کہانیاں سننا، یہ دیکھنا پسند ہے کہ وہ کیا سیکھ رہے ہیں، کیونکہ دنیا کے ہر ملک میں تعلیم بہت ضروری ہے۔میرے خیال میں تعلیم کا مطلب ان ممالک میں لوگوں معاشی بااختیار بنانا ہے،" انہوں نے العربیہ کو بتایا۔

انہوں نے کہا کہ "عرب دنیا میں نوجوانوں اور خواتین کو درپیش چیلنجوں میں سے ایک ذہنی صحت اور مہارت کے مسائل ہیں۔"
"عرب دنیا کے نوجوانوں کو امریکیوں کی طرح ملازمتوں، معیاری تعلیم اور صحت کی خدمات کی بھی ضرورت ہے۔" اور اس سلسلے میں بہتری کے لیے امریکہ خطے کے ممالک کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی خارجہ پالیسی پر خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر تنقید کے باوجود، خاتون اول نے کہا کہ اردن، مصر اور مراکش میں ملنے والے تمام لوگ انہیں بہت گرمجوشی سے ملے۔

گھریلو میدان میں، خاتون اول نے کہا کہ وہ ملکی مسائل پر صدر کو مشورہ نہیں دیتیں۔

جل بائیڈن دورہ مراکش کے موقع پر اب العارف ہائی سکول میں روبوٹکس کی کلاس میں: رائیٹرز
جل بائیڈن دورہ مراکش کے موقع پر اب العارف ہائی سکول میں روبوٹکس کی کلاس میں: رائیٹرز

"کئی بار وہ (جو بائیڈن )مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں ، ملک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ایسے میں ، میں انسانی عنصر کو پیش کرنے کی کوشش کرتی ہوں، "بائیڈن نے بیرون ملک دوروں کے دوران اپنے کردار کے حوالے سے کہا۔

انہوں نے اردن کے ولی عہد شہزادہ حسین کی شادی کی تقریب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "شادی شاندار تھی، اور ہمارے بادشاہ اور ملکہ کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں۔"

متنوع صلاحیتوں کی مالک امریکی خاتون اول جل بائیڈن نے اپنے شوہر جو بائیڈن کے دوبارہ انتخاب کے لیے مہم بھی شروع کر دی ہے۔
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ، "میں اس مہم اور اگلے چار سالوں کا گرمجوشی سے انتظار کر رہی ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں