ایردوآن کے حریف سیاست دان استنبول کے میئرکے خلاف کرپشن کیس کی سماعت کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کل جمعرات کو ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول کے میئر اکرام امام اوگلو کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ صدر رجب طیب ایردوآن کے سیاسی حریف سمجھے جانے والے رہ نما کے خلاف یہ کیس ان کے سیاسی کیریئر کو ختم کرسکتا ہے۔

ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رکن امام اوگلو پر سنہ2015ء کے آخر میں جب وہ استنبول کے مضافاتی علاقے ‘بیلیک دوزو’کے میئر تھے مالیاتی معاہدے میں جعلسازی کے شبے میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ تاہم وہ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے آئے ہیں۔

امام اوگلو کے دفتر نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اس مقدمے کی پہلی سماعت ملزم کی غیر موجودگی میں ہوئی جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ اسی ذریعے نے مزید کہا کہ کیس کی سماعت تیس نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

ترک اخبارات نے اشارہ کیا کہ ترکیہ میں 2028ء کے صدارتی انتخابات کے لیے اپوزیشن کے ممکنہ امیدوار کو سات سال تک قید اور نااہلی کے فیصلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امام اوگلو 2019ء میں استنبول کے میئر بننے کے بعد سے عدالتی ہدف بنے ہوئے ہیں۔ ان کے استنبول کے میئر بننے سے صدر رجب طیب ایردوآن کی پارٹی کو شدید دھچکا لگا تھا۔ امام اوگلو نے ایردوآن کی جماعت ’آق‘ کا استنبول پر 25 سالہ اقتدار ختم کردیا تھا۔

گذشتہ دسمبر میں اکرم امام اوگلو کو سپریم الیکشن کمیشن کے ارکان کی "توہین" کرنے کے الزام میں ان کو سیاسی حقوق سے محروم کرنے کے علاوہ دو سال اور سات ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی کہ وہ اب تک اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

اکرام امام اوگلو کو سنائی جانے والی سزا پر عالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور اس فیصلے کی مذمت کی گئی تھی۔

اس فیصلے کی وجہ سے امام اوگلو کو گذشتہ مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے باہر کر دیا گیا، حالانکہ ترک اپوزیشن کا ایک حصہ انہیں طیب ایردوآن کے جرات مند اور بے باک حریف کے طور پر دیکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں