پارٹی گیٹ اسکینڈل پر بورس جانسن نے دانستہ پارلیمان کو گمراہ کیا، پارلیمانی کمیٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک برطانوی پارلیمانی کمیٹی کی انکوائری کے نتائج میں انکشاف کیا گیا کہ سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے جان بوجھ کر لاک ڈاؤن پارٹیوں کے معاملے پر پارلیمان کو گمراہ کیا۔

یہ انکوائری پارٹی گیٹ اسیکنڈل سے متعلق تھی جس میں سابق برطانوی وزیراعظم پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر پارٹی منعقد کی جب کہ کورونا کے باعث متعدد لاک ڈاؤن نافذ تھے۔

کمیٹی نے کہا کہ بورس جانسن کو پارلیمان کی بار بار توہین پر 90 دن کی معطلی کا سامنا کرنا پڑتا اگر وہ اب بھی رکن پارلیمنٹ ہوتے اور انہوں نے گزشتہ ہفتے استعفی نہ دیا ہوتا۔

کمیٹی نے پایا کہ جانسن نے متعدد مواقع پر ہاؤس آف کامنز کو بار بار گمراہ کیا، گزشتہ ہفتے کمیٹی کی رپورٹ کو چیلنج کرکے مزید غلط اور توہین آمیز رویے کا ارتکاب کیا، اور ساتھ ہی ایوان نمائندگان کے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا۔

کمیٹی نے مزید کہا کہ جانسن گذشتہ ہفتے نائب کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کے بعد کمیٹی کے خلاف دھمکی دینے والی مہم میں ملوث تھے۔

اور ان کا طرز عمل زیادہ خطرناک اس لیے ہے کیونکہ وہ سابق وزیر اعظم کی حیثیت سے اہم منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔

یہ رپورٹ جمعہ کے روز جانسن کے پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفی دینے کے بعد سامنے آئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ استعفیٰ تحقیقات کے نتائج کی توقع میں آیا ہے۔

بورس جانسن نے کمیٹی کو ایک "کینگرو کورٹ" قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس کی سال بھر کی انکوائری "ایک طویل سیاسی قتل ہے۔

انہوں نے کمیٹی کے خلاف تعصب کا الزام لگایا، اور کہا کہ کمیٹی کا نتیجہ "بکواس" اور "جھوٹ" ہے اور یہ "حقائق سے متصادم ہے۔ "

جانسن کا سیاسی زندگی سے اخراج 9 ماہ بعد اس وقت ہوا تھا جب وہ گذشتہ جولائی میں برطانوی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے استعفوں کے سلسلے کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں