تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی، گریمی ایوارڈز نے مصنوعی ذہانت پر پابندی لگا دی

مکمل طور پر اے آئی سے تیار کاموں پر پابندی ، مصنوعی ذہانت سے جزوی تیار موسیقی کو کچھ زمروں میں شامل کیا جا سکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گریمی ایوارڈز دینے والی نیشنل اکیڈمی آف ریکارڈنگ آرٹس اینڈ سائنسز نے جمعہ کو کہا ہے کہ موسیقی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو روکنے کی کوشش کے تناظر میں صرف انسانی تخلیق کار ہی اس کے ایوارڈز کے اہل ہیں۔

اکیڈمی نے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کاموں پر پابندی عائد کر دی ہے لیکن اس کی مدد سے تیار کردہ کچھ موسیقی کچھ زمروں میں شامل کی جا سکتی ہے۔ اکیڈمی نے کہا ایسا کام جس میں کوئی انسانی تصنیف نہ ہو وہ کسی بھی زمرے کے لیے نامزد ہونے کا اہل نہیں ہے۔

میوزک کمپوزرز کو اب نامزد ہونے کے لیے البم کا کم از کم 20 فیصد حصہ پیش کرنا ہوگا۔ اس سے پہلے میوزک البم سے متعلق کوئی بھی پروڈیوسر، نغمہ نگار، ساؤنڈ انجینئر یا فنکار نامزد ہو سکتا تھا چاہے اس کا حصہ بہت محدود ہی کیوں نہ ہو۔

مصنوعی ذہانت کا استعمال نومبر کے بعد سے اس وقت تیزی سے پھیل گیا ہے جب اوپن اے آئی نے اپنی چیٹ جی پی ٹی ٹیکنالوجی کا آغاز کیا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے آنے کے بعد مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سٹیل امیجز کو متحرک کرنے، فلموں میں کرتب دکھانے، گانے اور مضامین لکھنے اور بہت سے کاموں میں انسانوں کی جگہ مصنوعی ذہانت کے لینے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں