ایران وسعودی عرب

ایرانی اور سعودی وزراء خارجہ کے درمیان تعلقات کی بحالی کے بعد پہلی’مثبت بات چیت‘

تہران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے: شہزادہ فیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ہفتے کے روز تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے بعد ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

شہزادہ فیصل اور حسین امیرعبداللہیان نے ایرانی وزارت خارجہ کی عمارت میں دو طرفہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے۔شہزادہ فیصل نے ان مذاکرات کو 'مثبت' قرار دیا اور کہا کہ بات چیت میں اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ الریاض کو امید ہے کہ تہران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

شہزادہ فیصل نے یہ بھی کہا:’’میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی، خاص طور پر میری ٹائم نیوی گیشن کی سلامتی پر تعاون کی اہمیت کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ہم تمام علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ خطہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک ہو‘‘۔

وزیرخارجہ نےنیوزکانفرنس میں یہ بھی بتایا کہ وہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات میں انھیں شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے دورۂ سعودی عرب کی دعوت دیں گے۔

  ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور ان کے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان ہفتہ 17 جون 2023 کو تہران میں ملاقات کر رہے ہیں۔ 
ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور ان کے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان ہفتہ 17 جون 2023 کو تہران میں ملاقات کر رہے ہیں۔ 

اس موقع پر حسین امیرعبداللہیان نے کہا کہ دونوں فریقوں نے ’’مشترکہ اقتصادی، سیاسی اور سرحدی کمیٹی‘‘ کے قیام پر غور کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران نے مارچ میں چین کی ثالثی میں دوطرفہ تعلقات کی بحالی کا معاہدہ طے کیا تھا۔اس کے بعد کسی اعلیٰ سعودی عہدہ دار کا ایران کا یہ پہلا دورہ ہے۔

اس معاہدے کے تحت الریاض اور تہران نے ایک دوسرے کے علاقوں میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے اور 20 سال قبل طے شدہ سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد پر اتفاق کیا تھا۔

سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر حکومت کے حامی مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے تھے۔

ایران نے رواں ماہ کے اوائل میں الریاض میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا۔ سعودی عرب نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ تہران میں اپنا سفارت خانہ کب کھولے گا، لیکن العربیہ کے نامہ نگار نے ہفتہ کے روز خبر دی کہ تہران میں سعودی سفارت خانہ اور مشہد میں قونصل خانہ،دونوں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے بعد دوبارہ کام شروع کردیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں