برطانیہ: چاقو زنی کا ملزم تہرے قتل کے الزام میں عدالت میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانیہ کے شہر ناٹنگھم میں تین افراد کو چاقو کے وار کر کے قتل کرنے والے ملزم کو ہفتے کے روز عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ناٹنگھم یونیورسٹی کے اس31 سالہ سابق طالب علم پر قتل کے تین الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ملزم والڈو کیلوکین نے عدالت میں اپنا نام ایڈم مینڈس بتایا ہے۔ اس نے ٹی شرٹ اور جاگنگ پاجاما پہن رکھا تھا اور اس کے ساتھ تین سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔

اس پر ناٹنگھم یونیورسٹی کے طالب علم 19 سالہ گریس اوملی کمار اور برنابی ویبر اور اسکول کے نگران 65 سالہ ایان کوٹس کے قتل کا الزام ہے۔

شہر کی یونیورسٹی کے سابق طالب علم کیلوکین پر قتل کی کوشش کے تین اور الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ان کا تعلق تین دیگر افراد سے ہے جنھیں ایک وین نے ٹکر ماردی تھی۔

ملزم نے عدالت میں صرف اپنے نام کی تصدیق کرنے کے لیے بات کی، جو پولیس کی جانب سے پہلے دیے گئے نام اور تاریخ پیدائش سے مختلف ہے۔ اسے مجسٹریٹ ایلیسن فوکیٹ نے حراست میں لینے کا حکم دیا اور اب اس کی اگلی پیشی پیر کو ناٹنگھم کی کراؤن کورٹ میں ہوگی۔

میڈیکل کے طالب علم اومیلی کمار اور تاریخ کی تعلیم حاصل کرنے والے ویبر پر منگل کی صبح 4 بجے کے بعد چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جبکہ کوٹس کو اس کے کچھ ہی دیر بعد چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

اس کے بعد کوٹس کی ملکیتی ایک وین کو شہریوں کو کچلنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔اس واقعہ میں ایک شخص شدید زخمی ہوگیا تھا اور اس کو اسپتال میں تشویش ناک حالت میں پہنچایا گیا تھا۔

حالیہ دنوں میں ناٹنگھم میں ہزاروں افراد نے مقتولین کے سوگ میں منعقدہ تعزیتی اجتماعات میں شرکت کی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں توہین عدالت کے قوانین اس بات پر سخت پابندی عاید کرتے ہیں کہ مشتبہ شخص پر فردِ جُرم عاید ہونے کے بعد مقدمے کی سماعت سے پہلے برطانوی میڈیا کیا رپورٹ کر سکتا ہے، تاکہ جیوری کی کارروائی متاثر نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں