روس نے بیلاروس کو جوہری وار ہیڈز کا پہلا سیٹ فراہم کیا ہے: پوتین

جوابی کارروائی کے دوران یوکرینی فوج کا نقصان روسی فوج کے نقصانات سے 10 گنا زیادہ ہو گیا: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روس کے صدر پوتین نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک نے جوہری ہتھیاروں کا پہلا گروپ بیلاروس کو منتقل کر دیا ہے۔ یہ اعلان ماسکو نے مارچ میں کیا تھا۔

پوتین نے سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک اقتصادی فورم کے دوران کہا کہ پہلے جوہری وار ہیڈز کو بیلاروس کی سرزمین پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ صرف پہلا ہے۔ موسم گرما کے اختتام تک ہم یہ کام مکمل طور پر مکمل کر لیں گے۔ ان کی تقریر روسی ٹیلی ویژن نے براہ راست نشر کی۔

12
12

انہوں نے کہا کہ بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ مارچ میں اعلان کردہ ایک معاہدے کا نتیجہ ہے۔ بیلا روس نے یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے اپنے ملک کی سرزمین ماسکو کے اختیار میں رکھی تھی۔ پوتین نے کہا کہ یہ معاملہ ان لوگوں کے لیے رکاوٹ ہے جو روس کو سٹریٹجک شکست دینے کا سوچ رہے ہیں۔

پوتین نے کہا کہ یوکرینی افواج کے جوابی حملے میں کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پوتین نے سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقدہ اقتصادی فورم سے پہلے گفتگو میں کہا کہ یوکرینی افواج کیلئے وہاں یا دوسرے خطوں میں کوئی موقع نہیں ہے۔

روسی صدر نے مزید کہاکہ جب ہم ابھی بات کر رہے ہیں تو یوکرین کی فوج کی طرف سے ورمیسوک محور پر حملہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دشمن 5 ٹینکوں کی مدد سے کئی یونٹس کا استعمال کرتے ہوئے کئی علاقوں پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پوتین نے انکشاف کیا کہ جوابی کارروائی کے دوران یوکرین کی فوج کا نقصان روسی فوج کے نقصانات سے 10 گنا زیادہ ہے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ٹینکوں کے اعتبار سے کیف کا نقصان 186 ٹینکوں سے زیادہ ہے۔ پوتین نے کہا کہ ان کا نقصان واقعی بہت بڑا ہے۔ یہ روسی فوج کے نقصانات کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ نقصان ہے۔

یوکرینی فوج کے سازوسامان کے نقصانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پوتین نے تبصرہ کیا کہ سامان میں ہونے والے نقصانات میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ آج تک یوکرین کی فوج مختلف ماڈلز کے 186 ٹینک اور 418 بکتر بند گاڑیاں کھو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں