سوڈان:دارالحکومت خرطوم میں فضائی حملوں میں 5 بچّوں سمیت 17 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ہفتے کے روز فضائی حملوں میں پانچ بچّوں سمیت سترہ عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

سوڈان میں فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز کے درمیان لڑائی تیسرے مہینے میں داخل ہو گئی ہے اور کسی بھی فریق کو واضح برتری حاصل نہیں ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے 22 لاکھ سوڈانیوں کو بے گھر کردیا ہے،اس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور طویل خانہ جنگی سے متاثرہ دارفور میں ایک مرتبہ پھر’’انسانی المیہ‘‘رونما ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

خرطوم اور اس کے ہمسایہ شہروں اُم درمان اور بحری میں فوج کو فضائی طاقت کا فائدہ حاصل ہے جبکہ آر ایس ایف کے جنگجو رہائشی علاقوں میں سرایت کرچکے ہیں۔جمعہ اور ہفتہ کے روز فوج نے فضائی حملوں میں اضافہ کرتے ہوئے کئی رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔

قبل ازیں فوج کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک تقریر میں اعلیٰ جنرل یاسر العطا نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ ان گھروں سے دور رہیں جن پر آر ایس ایف نے قبضہ کر رکھا ہے۔کیونکہ اس وقت، ہم ان پر کہیں بھی حملہ کریں گے۔انھوں نے ثالثی کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اور ان باغیوں کے درمیان اب گولی فیصلہ کرے گی۔

خرطوم میں وزارت صحت نے مقامی رضاکاروں کی ایک رپورٹ کی تصدیق کی کہ خرطوم کے جنوبی علاقے میو میں فضائی حملوں میں پانچ بچوں سمیت 17 افراد ہلاک اور 25 گھر تباہ ہوگئے ہیں۔

یہ حملہ شہر کے غریب اور گنجان آباد علاقے پر فضائی حملوں اور توپ خانے سے گولہ باری کا تسلسل تھا۔اس علاقے کے زیادہ تر رہائشی وہاں سے نکلنے کا مالی بار برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔جمعہ کی رات دیر گئے مقامی مزاحمتی کمیٹی نے خرطوم کے مغربی علاقے الالماب میں گولہ باری سے 13 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

دریں اثناء آر ایس ایف نے خرطوم کے مغرب میں دریائے نیل میں فوج کا ایک جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔محلہ بیت المال کی مقامی کمیٹی کے مطابق اُم درمان کے وسطی اور جنوبی علاقے میں میں جمعہ اور ہفتے کو بھی فضائی جاری رہے ہیں جس میں کئی گھر متاثر ہوئے اور ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز شرق النیل میں ایک فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ادھر شورش زدہ ریاست مغربی دارفور کے علاقے الجینینا سے دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ افراد سرحد پار سے چاڈ چلے گئے ہیں، جب کہ ایک ہزار سے زیادہ افراد مختلف حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔امریکا نے ان حملوں کا الزام آر ایس ایف اور اس کی اتحادی ملیشیا پرعاید کیا تھا۔

دارالحکومت خرطوم میں جنگ نے لاکھوں لوگوں کو بجلی، پانی اور صحت کی سہولتوں تک رسائی سے محروم کر دیا ہے، اور رہائشیوں کو راشن میں کھانا مل رہاہے۔ انھوں نے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی بھی اطلاع دی ہے۔

دو ذرائع نے بتایا کہ جدہ میں ہونے والے مذاکرات میں اب ممکنہ طور پر تین روزہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ آئندہ عید کی تعطیلات کے دوران میں پانچ روزہ جنگ بندی کی تجویز پرغور کیا جارہا ہے۔امریکا اور سعودی عرب کے ثالثوں نے لڑائی نہ روکنے کی صورت میں ان مذاکرات کو ملتوی کرنے کی دھمکی دی تھی۔

واضح رہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ دوماہ کے دوران میں متعدد مرتبہ ہونے والی جنگ بندی سوڈان میں لڑائی کو مکمل طور پر ختم کرنے یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پرامدادی سامان کی رسائی متاثرین تک آسان بنانے میں ناکام رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں