تابوت میں زندہ ہوجانے والی خاتون نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو غمزدہ کردیا

ایکواڈور میں 76 سالہ بیلا مونڈویا گزشتہ ہفتے اپنی آخری رسومات کے دوران اٹھ کھڑی ہوئیں، ایک مرتبہ پھر موت کا اعلان کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تدفین کی تقریب کے دوران اپنے تابوت میں زندہ ہوجانے والی خاتون نے گزشتہ ہفتے پوری دنیا میں حیران کردیا تھا تاہم اب ایک ہفتہ سے ہسپتال میں داخل اس خاتون کی موت کا ایک مرتبہ پھر اعلان کردیا گیا ہے۔ اس تابوت والی خاتون کی عمر 76 برس تھی۔

ایکواڈور کی وزارت صحت نے ہفتہ 17 جون کو اعلان کیا کہ ’’ تابوت والی خاتون‘‘ بیلا مونٹویا کی موت واقع ہو گئی ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ بیلا کی موت کا گزشتہ ہفتے بھی اعلان کیا گیا تھا لیکن آخری رسومات کے دوران انہوں نے تابوت کے اندر سے دستک دینا شروع کردی تھی۔ بیلا کو فالج ہوا تھا۔ اب 7 دن سے وہ ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل تھی۔

وزارت نے بتای کہ خاتون کو ہسپتال میں "مستقل نگرانی" میں رکھا گیا تھا۔ وزارت صحت نے خاتون کے کیس سے متعلق مزید طبی معلومات فراہم نہیں کیں۔

متوفیہ کے بیٹے گلبرٹو نے تصدیق کی کہ اسے ابھی تک حکام کی جانب سے طبی وضاحت کے بارے میں کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے کہ کیا ہوا۔ بیٹے نے یہ بھی کہا کہ اس کی خالہ نے بھی ایک سرکاری شکایت درج کرائی ہے جس میں ڈاکٹر کی شناخت کرنے کی کوشش کی گئی جس نے شروع سے ہی اس کی موت کا اعلان کیا تھا۔

بیلا کی آخری رسومات 9 جون کو پاپاہیو میں کوئٹو سے تقریباً 208 کلومیٹر جنوب مغرب ادا کی جارہی تھیں کہ وہ اپنے تابوت کے اندر 5 گھنٹے گزرنے کے بعد اچانک بیدار ہوگئی تھی اور اس نے تابوت کے ڈھکن پر دستک دینا اور خود کو بچانے کی بھیک مانگنا شروع کردی تھی۔ یہ خبر عالمی میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ خبر نے پوری دنیا کو حیران کرکے رکھ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں