چین،امریکا تعلقات میں تائیوان بڑا خطرہ ہے: بلینکن سے وزیرخارجہ چِن کی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

چین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تائیوان امریکا کے ساتھ تعلقات میں "سب سے اہم خطرے" کی نمائندگی کرتا ہے۔چینی وزیر خارجہ چِن گانگ نے یہ بات امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن سے بیجنگ میں ملاقات کے بعد کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں "واضح" بات چیت کی ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے بلینکن کو بتایا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات کا اساسی مسئلہ ہے، یہ چین اور امریکا کے تعلقات میں سب سے اہم اور بڑا خطرہ ہے۔

تائیوان کے معاملے پر امریکا اور چین کی کشیدگی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں تنازعات کا ایک اہم نکتہ بن چکی ہے۔ یہ مسئلہ ’’ون چائنا‘‘پالیسی کی مختلف تشریحات سے پیدا ہوا ہے، جسے امریکا تسلیم کرتا ہے لیکن واضح طور پر تسلیم نہیں بھی کرتا۔

چین تائیوان کو ایک منحرف صوبہ کے طور پر دیکھتا ہے جسے بالآخر ملک کے ساتھ دوبارہ متحد کیا جانا چاہیے ، یہاں تک کہ اگر ضروری ہو تو طاقت کے ذریعے بھی ایسا کیا جاسکتا ہے۔امریکا تائیوان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دیرینہ عزم رکھتا ہے اور تائیوان کے ساتھ مضبوط غیر رسمی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے ، جس میں اسے دفاعی ہتھیاروں کی ترسیل بھی شامل ہے۔ تائیوان کی حیثیت اور مستقبل کے بارے میں دونوں ملکوں میں اس اختلاف کی وجہ سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اس نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تزویراتی رقابت میں بھی اضافہ کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں وزراء خارجہ کے درمیان طویل بات چیت ہوئی ہے اور انھوں نے بات چیت کو’’واضح، گہری اور تعمیری‘‘قرار دیا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے بلینکن کو بتایا کہ چین امریکا کے ساتھ "مستحکم، قابل پیشین گوئی اور تعمیری" تعلقات قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ واشنگٹن چین کے بارے میں معروضی اور عقلی تفہیم کو برقرار رکھے گا۔ وہ دوطرفہ تعلقات کی سیاسی بنیاد کو برقرار رکھے گا اور غیر متوقع واقعات سے پرامن انداز میں، پیشہ ورانہ اور منطقی طور پر نمٹے گا۔

واضح رہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بیجنگ کے ساتھ سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے، جس کا مقصد مختلف متنازع امور سے پیدا ہونے والی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ ان میں جمہوری طور پر نظم ونسق چلانے والے تائیوان پر چین کا علاقائی دعویٰ، اور بحیرہ جنوبی چین میں اس کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمی ایسے امور اہمیت کے حامل ہیں۔

حال ہی میں دونوں ملکوں میں کھلے مذاکرات کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب چینی حکومت نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور ان کے چینی ہم منصب کے درمیان مجوزہ ملاقات کو مسترد کر دیا تھا۔ چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے موجودہ سفارتی تناؤ کا الزام امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ کھلی بات چیت میں دلچسپی کے اظہار کے باوجود امریکا نے چین کے خدشات کو مسلسل نظرانداز کیا اور مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کیں جس سے دونوں فوجی طاقتوں کے درمیان باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا۔

دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی آبنائے تائیوان میں رونما ہونے والے ایک حالیہ واقعہ سے مزید اجاگر ہوتی ہے جہاں امریکی بحریہ نے "غیر محفوظ تعامل" کی اطلاع دی تھی اور ایک چینی جنگی جہاز نے امریکی تباہ کن جہاز کے نزدیک سے غیرمحفوظ انداز میں راستہ عبور کیا تھا۔ اس واقعہ نے مستقبل میں تصادم کے امکانات کو بڑھا دیا ، جو بے قابو کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

اگرچہ چین نے تعلقات کو مستحکم کرنے اور تعاون تلاش کرنے کے لیے اپنی آمادگی پر زور دیا تھا ، لیکن اس نے کسی بھی امریکی اشتعال انگیزی کا مضبوطی سے مقابلہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا تھا۔

چین اور امریکا کے تعلقات فروری میں اس وقت مزید پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئے تھے جب وزیرخارجہ بلینکن نے چین کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔انھوں نے یہ فیصلہ ایک مشتبہ چینی جاسوس غبارے کے امریکا کی فضائی حدود سے گزرنے کے بعد کیا تھا۔اس سے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں تناؤ کی ایک اور پرت بڑھ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں