کشتی حادثہ پر غصے کا رخ انسانی سمگلرز کی جانب موڑا جائے: یونانی رہنما

سابق یونانی وزیر اعظم اور قدامت پرست پارٹی ’’نیو ڈیموکریسی‘‘ کے رہنما کیریاکوس میٹسوٹاکس کی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یونان کے سابق وزیر اعظم اور قدامت پرست پارٹی ’’نیو ڈیموکریسی ‘‘ کے رہنما کیریاکوس میٹسوٹاکس نے یونان میں کشتی حادثہ کے بعد ریسکیو آپریشن کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو کی کارروائیوں پر تنقید کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے غصے کا رخ انسانی سمگلرز کی جانب موڑ دیں۔

سپارٹا کے قصبے میں بات کرتے ہوئے مٹسوٹاکس نے کہا کہ اپنے غصے کو سمگلروں کے خلاف پھیرنا چاہیے۔ یہ سمگلر ’’ انسانی گندکی‘‘ ہیں۔ واضح رہے کشتی بدھ 14 جون کو ڈوب گئی تھی۔

یونانی کوسٹ گارڈ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ یونانی بحریہ کا ایک فریگیٹ اور چار دیگر بحری جہاز یونان کے جنوب مغرب میں پائلوس قصبے کے جنوب مغرب میں 47 ناٹیکل میل یعنی 87 کلومیٹر کے فاصلے پر کام کر رہے ہیں۔ کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ اس سے قبل بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے دو ہیلی کاپٹرز بھی کشتی ڈوبنے کے بعد لوگوں کو نکالنے کے آپریشن میں شامل ہو چکے ہیں۔

ڈوبنے والی کشتی میں زیادہ تر شام، مصر، فلسطین اور پاکستان کے تارکین وطن سوار تھے۔ ہفتہ کی رات تک 104 افراد کو بچا لیا گیا تھا۔ اسی طرح 79 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی تھیں۔ کشتی میں ایک اندازے کے مطابق بچوں اور خواتین سمیت 750 افراد سوار تھے۔ اس طرح 500 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں جن کے متعلق بھی اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایتھنز میں مصری سفارت خانے نے ہفتے کے روز بچوں سمیت 43 مصری تارکین وطن کی فہرست شیئر کی۔ تاہم یونانی حکام کو زیادہ تیزی سے کام کرنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ہفتے کے روز یونانی ریسکیو جہاز کے کپتان نے گواہی دی جسے یونانی میڈیا نے شائع کیا تھا کہ تارکین وطن نے مدد لینے سے انکار کردیا تھا۔ تارکین نے کہا تھا کہ وہ اٹلی جا رہے ہیں اور انہیں مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مٹسوٹاکس نے کہا کچھ نام نہاد اتحاد کے داعی افراد انتہائی غیر منصفانہ طور پر اس وقت یہ کہ رہے ہیں کہ کوسٹ گارڈ نے اپنا کام نہیں کیا جب کوسٹ گارڈ کے اہلکار انسانی جانوں کو بچانے کے لیے خطرناک لہروں سے لڑ رہے ہیں۔

یاد رہے ہفتے کے روز ایک الگ واقعہ میں اٹلی میں ایک کامیاب ریسکیو آپریشن کیا گیا جہاں کلابریا میں روکیلا کی بندرگاہ سے کوسٹ گارڈ کے ایک جہاز نے بندرگاہ سے 100 ناٹیکل میل یعنی 185 کلومیٹر سے زیادہ دور ایک سیل بوٹ پر سوار 96 تارکین وطن کو بچا لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں