یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان قیدیوں کے ممکنہ تبادلے پر عمان میں بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) کی ایک عہدہ دار نے بتایا ہے کہ یمن کی حکومت اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درمیان اردن میں قیدیوں کے ممکنہ تبادلے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

مشرقِ اوسط میں آئی سی آر سی کی میڈیا ایڈوائزر جیسیکا موسان نے کہا کہ اردن کے دارالحکومت عمان میں جمعہ سے جاری مذاکرات کی نگرانی یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کا دفتر کر رہے ہیں۔

انھوں نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی (اے ایف پی) کو بتایا کہ یمن میں تنازع کے فریق مستقبل میں قیدیوں کی رہائی کے آپریشن پر بات چیت سے متعلق مسائل کو حل کریں گے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے ایلچی کے دفتر نے کہا تھا کہ عمان میں ہونے والی بات چیت پانچ سال قبل اسٹاک ہوم میں دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ معاہدے کی تعمیل کا تسلسل ہے۔

اس معاہدے میں یمن میں قریباً ایک دہائی سے جاری تنازع کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے تمام قیدیوں، لاپتا افراد، من مانے طور پر حراست میں لیے گئے اور جبری طور پر لاپتا افراد اور گھروں میں نظربند افراد کو بغیر کسی استثنا یا شرائط کے رہا کرنے پر زوردیا گیا تھا۔

موسان نے کہا کہ آئی سی آر سی مارچ میں سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ معاہدے کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کے لیے دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔اس معاہدے کے بعد قریباً 900 قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔قیدیوں کا تبادلہ اپریل میں تین دن تک جاری رہا تھا، جس کے ساتھ ہی طویل مدتی جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لائی گئی تھی۔

یمن میں متحارب فریقوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں چھے ماہ کی جنگ بندی گذشتہ سال اکتوبر میں ختم ہو گئی تھی، لیکن تب سے لڑائی بڑی حد تک تعطل کا شکار ہے۔یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد ال جابر نے جنگ بندی کو’’مستحکم‘‘ کرنے کے منصوبے کے حصے کے طور پر اپریل میں صنعاء کا دورہ کیا تھا۔

اگرچہ فریقین میں کوئی نیا معاہدہ طے نہیں پایا تھا لیکن جابر نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ متحارب فریق تنازع کے خاتمے کے لیے 'سنجیدہ' ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے 45 لاکھ یمنیوں کو اندرونی طور پر بے گھر کر دیا ہے اور دو تہائی سے زیادہ آبادی کو غُربت کی طرف دھکیل دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے گذشتہ ہفتے دی ہیگ میں ایک بین الاقوامی فورم کو بتایا تھا کہ یمن میں’’امن کا راستہ طویل اور مشکل ہونے جا رہا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں