خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ طالبان کا برتاؤ صنفی امتیاز ہو سکتا ہے:اقوام متحدہ ماہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ طالبان کا افغان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک صنفی امتیاز کے مترادف ہو سکتا ہے کیونکہ طالبان حکام کی جانب سے خواتین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے جنیوا میں سوموار کو انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ ’’خواتین اور لڑکیوں کے خلاف سنگین، منظم اور ادارہ جاتی امتیازی سلوک کی طالبان کے نظریے اور حکمرانی میں مرکزی حیثیت ہے، جس سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ وہ صنفی امتیاز کے ذمے دار ہوسکتے ہیں‘‘۔

اقوام متحدہ نے صنفی امتیاز کی تعریف میں کہا ہے کہ ’’افراد کے خلاف ان کی جنس کی وجہ سے معاشی اور سماجی امتیازی سلوک جنسی امتیاز" ہوتا ہے‘‘۔

بینیٹ نے کونسل کے اجلاس کے موقع پر نامہ نگاروں کو بتایا:’’ہم نے صنفی امتیاز پر مزید تحقیق کی ضرورت کی نشان دہی کی ہے۔ یہ فی الحال تو بین الاقوامی جرم نہیں ہے، لیکن ایسا ہوسکتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی نسلی امتیاز کی تعریف کا اطلاق افغانستان کی صورت حال پر کرے اور نسل کے بجائے جنس یا صنف کا استعمال کرے تو اس کی نشان دہی کرنے والے مضبوط اشارے نظر آتے ہیں۔

طالبان نے افغانستان میں اگست 2021 میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور خواتین کی آزادیوں اور حقوق بشمول ہائی اسکول اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے حق کو محدود کر دیا تھا۔

جولائی تا دسمبر 2022 کا احاطہ کرنے والی ایک رپورٹ میں، بینیٹ نے مارچ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ’’طالبان کا خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ سلوک صنفی ظلم و ستم کے مترادف ہوسکتا ہے، جو انسانیت کے خلاف جرم ہے‘‘۔

انھوں نے انسانی حقوق کونسل میں اس بات کا اعادہ کیا کہ ’’افغان خواتین اور لڑکیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے سنگین طور پرمحروم کیا جانا اور حکام کی جانب سے پابندیوں کے سخت نفاذ کے نتیجے میں صنفی ظلم و ستم جرم بن سکتا ہے‘‘۔

اپریل میں طالبان حکام نے اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر بھی پابندی عاید کر دی تھی جب کہ اس سے پہلے دسمبر میں امدادی گروپوں میں ملازمت کرنے والی خواتین کو کام سے روک دیا گیا تھا۔طالبان حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی قانون کی اپنی سخت تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں