سعودی عرب کا امدادی کانفرنس میں سوڈانی عوام کی حمایت کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پیر کے روز سوڈانی عوام کے لیے مملکت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک سوڈانیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

شہزادہ فیصل نے جدہ مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر متحارب فریقوں کے درمیان سعودی عرب اور امریکا کی ثالثی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحران کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

سعودی وزیرخارجہ ویڈیو کال کے ذریعے سوڈان امدادی کانفرنس میں شریک ہیں۔
سعودی وزیرخارجہ ویڈیو کال کے ذریعے سوڈان امدادی کانفرنس میں شریک ہیں۔

وہ سوموار کو ویڈیو کال کے ذریعے سوڈان سے متعلق امدادی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔شہزادہ فیصل نے کہا کہ سوڈانی عوام تشدد سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری مدد کے منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ سوڈان غیر معمولی رفتار سے موت اور تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔انھوں نے عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور اس تباہی کو روکیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس ۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس ۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ سوڈان کی موت اور تباہی کی رفتار بے مثال ہے۔مضبوط بین الاقوامی حمایت کے بغیر، سوڈان تیزی سے لاقانونیت کا گڑھ بن سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں عدم تحفظ پھیل سکتا ہے۔

سوڈان میں عبدالفتاح البرہان کی سربراہی میں فوج 15 اپریل سے اپنے سابق نائب محمد حمدان دقلو کے زیرکمان نیم فوجی دستوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔اس لڑائی کے دوران میں متعدد مرتبہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا اوراسے توڑا گیا ہے۔اس خانہ جنگی میں 2،000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوسکے ہیں اور مزید 20 لاکھ افراد کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا ہے۔ان میں کم سے کم 528،000 بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں۔

اس بحران سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ نے دو اپیلیں کی ہیں، ایک سوڈان کے اندر انسانی ہمدردی کے ردعمل اور دوسری اس کی سرحدوں کے باہر پناہ گزینوں کی امداد کے لیے اپیل کی ہے۔ان اپیلوں کے جواب میں اس سال تین ارب ڈالر درکار ہیں لیکن اب تک 17 فی صد سے بھی کم فنڈز مہیا کیے گئے ہیں۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ دارفور اور خرطوم کی صورت حال تباہ کن ہے۔وہاں لڑائی جاری ہے اور لوگوں پر ان کے گھروں اور سڑکوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں 20 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر سوڈان کے محفوظ علاقوں یا سرحدوں کے اس پار پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پانچ لاکھ سے زیادہ افراد پہلے ہی سرحد پار کر کے ہمسایہ ممالک میں داخل ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس تنازع کے شروع ہونے سے پہلے، سوڈان پہلے ہی انسانی بحران سے دوچار تھا۔ یہ اب ایک تباہی کی شکل اختیار کر چکا ہے جس سے ملک کے آدھے سے زیادہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ بحران کا خاتمہ کیا جائے اور اس کا واحد راستہ امن کی واپسی اور جمہوریت کی طرف منتقلی کے ذریعے سویلین حکمرانی کی بحالی ہے۔

اس امدادی کانفرنس کا انعقاد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کے اداروں کے ساتھ ساتھ مصر، جرمنی، قطر اور سعودی عرب کے علاوہ افریقی یونین اور یورپی یونین کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں